انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 473

واقف ہے کبھی کسی بت کے آگے جا کر ہا تھ نہیں پھیلا ئے گا کیونکہ اسے یقین ہے کہ یہ بت کچھ نہیں کر سکتے لیکن ایک بت پرست ان کے آگے بھی ہاتھ جوڑ کر اپنا حال دل کہہ سناتا ہے کیونکہ اسے ایمان ہے کہ یہ بت بھی خدا تعالیٰ کے قرب کا ایک ذریعہ ہیں۔فقیر بھی اس بات کو دیکھ لیتے ہیں کہ فلاں شخص دے گا یا نہیں اور جس پر انہیں یقین ہو کہ کچھ دے گا اس سے جا کر طلب کر تے ہیں۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ آدمی اس سے کچھ مانگتا ہے جس پر اسے ایمان ہو کہ اس سے ملے گا۔رسول کریمؐ کا ہر وقت خدا سے امداد طلب کر نا ،نصرت کی درخواست کر نا اور اٹھتے بیٹھتے اسی کےکواڑ کھٹکھٹا نا،اسی سے حاجت روائی چاہنا کیا اس بے مثل یقین اور ایمان کو ظا ہر نہیں کر تا جو آپؐ کو خدا پر تھا۔اور کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہو تا کہ آپؐ کا دل یا د الٰہی اور خشیت ایزدی سے ایسا معمور و آبا د تھا کہ تو جہ الی المخلوق کااس میں کو ئی خانہ خالی ہی نہ تھا۔اگر یہ بات کسی اور انسان میں بھی پا ئی جا تی تھی اور اگر کو ئی اور شخص بھی آپؐ کے برابر یا آپؐ کے قریب بھی ایمان رکھتا تھا اور خدا کا خوف اس کے دل پر مستولی تھا تو اس کے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھر نے میںبھی خشیتِ الٰہی کے یہ آثار پا ئے جانے ضروری ہیں مگرمیں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ زمین کےہر گو شہ میں چراغ لےکر گھوم جاؤ،تاریخوں کی ورق گردانی کرو،مختلف مذاہب کے مقتداؤں کے جیون چرتر،سوانح عمریاں اور با یو گرافیاں پڑھ جاؤ مگر ایسا کامل نمونہ کسی انسان میں نہ پاؤ گے۔اور وہ خوف خدا جو رسول کریم ﷺ کے ہر ایک قول سے ظاہر ہو تا ہے اور وہ حزم و احتیاط جو آپؐ کے ہر ایک فعل سے ٹپکتی ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے انسان کی زندگی میں پا یا جا نا محال ہے۔وہ دعا جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے یہ ہے۔اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْھَزَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِالنَّا رِ وَعَذَابِ النَّا رِوَمِنْ فِتْنَۃ الْغِنٰی وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ وَآعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ اللَّھُمَّ اَغْسِلْ عَنِّیْ خَطَا یَایَ بِمَآ ءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِیْ مِنَ الْخَطَا یَا کَمَا نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْاَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَا عِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَا یَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ (بخا ری کتاب الدعوات باب التعوذ من الماثم و المغرم )اے میرے رب ! میں تجھ سے سستی اور شدید بڑھا پے اور گناہوں اور قرضہ اور قبر کے فتنہ اورقبرکے عذاب اور دوزخ کے فتنہ اور اس کے عذاب اور دولت کے فتنہ کے نقصانوں سے پناہ مانگتا ہوں اور اسی طرح میں غربت کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں اور مسیح الدجال کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں اور اے میرے اللہ میری خطاؤں کو مجھ سے برف اور اولوں کے پا نی کے سا تھ