انوارالعلوم (جلد 1) — Page 473
انوار العلوم جلد 1 ۴۷۳ سيرة النبي ال واقف ہے کبھی کسی بت کے آگے جا کر ہاتھ نہیں پھیلائے گا کیونکہ اسے یقین ہے کہ یہ بت کچھ بایو نہیں کر سکتے لیکن ایک بت پرست ان کے آگے بھی ہاتھ جوڑ کر اپنا حال دل کہہ سناتا ہے کیونکہ اسے ایمان ہے کہ یہ بت بھی خدا تعالیٰ کے قرب کا ایک ذریعہ ہیں۔ فقیر بھی اس بات کو دیکھ لیتے ہیں کہ فلاں شخص دے گایا نہیں اور جس پر انہیں یقین ہو کہ کچھ دے گا اس سے جاکر طلب کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی اس سے کچھ مانگتا ہے جس پر اسے ایمان ہو کہ اس سے ملے گا۔ رسول کریم کا ہر وقت خدا قت خدا سے امداد طلب کرنا نصرت کی درخواست کرنا اور اٹھتے بیٹھتے اس کے کواڑ کھٹکھٹانا اس سے حاجت روائی چاہنا کیا اس بے مثل یقین اور ایمان کو ظاہر نہیں کرتا جو آپ کو خدا پر تھا۔ اور کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہو تاکہ آپ کا دل یا دالی اور خشیت ایزدی سے ایسا معمور و آباد تھا کہ توجہ الی المخلوق کا اس میں کوئی خانہ خالی ہی نہ تھا۔ اگر یہ بات کسی اور انسان میں بھی پائی جاتی تھی اور اگر کوئی اور شخص بھی آپ کے برابر یا آپ کے قریب بھی ایمان رکھتا تھا اور خدا کا خوف اس کے دل پر مستولی تھا تو اسکے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے میں بھی خشیت الہی کے یہ آثار پائے جانے ضروری ہیں مگر میں دعوی سے کہتا ہوں کہ زمین کے ہر گوشہ میں چراغ لے کر گھوم جاؤ تاریخوں کی ورق گردانی کرد ، مختلف مذاہب کے مقتداؤں کے جیون چرتر، سوانح عمریاں اور ۔ گرافیاں پڑھ جاؤ مگر ایسا کامل نمونہ کسی انسان میں نہ پاؤ گے ۔ اور وہ خوف خدا جو رسول کریم کے ہر ایک قول سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ حزم واحتیاط جو آپ کے ہر ایک فعل سے ٹپکتی ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے انسان کی زندگی میں پایا جانا محال ہے ۔ وہ دعا جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے یہ ہے۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلَ عَنِّي خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَ نَقِ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدُ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمُغْرِبِ (بخاری کتاب الدعوات باب التعوذ من الماثم المغرم اے میرے رب میں تجھ سے سستی اور شدید بڑھا پے اور گناہوں اور قرضہ اور قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب اور دوزخ کے فتنہ اور اس کے عذاب اور دولت کے فتنہ کے نقصانوں سے پناہ مانگتا ہوں اور اسی طرح میں غربت کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں اور مسیح الدجال کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں اے میرے اللہ میری خطاؤں کو مجھ سے برف اور اولوں کے پانی کے ساتھ