انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 472

انوار العلوم جلد 1 ۴۷۲ سيرة النبي ممکن ہے کہ اس کے اپنے اعمال کی کمزوری اس کے آگے آجائے ۔ ممکن ہے کہ شیطان اس کے دل پر تسلط پا کر اسے خراب کر دے اور یہ گمراہ ہو جائے چنانچہ آپ خود بھی بجائے ابتلاؤں کی آرزو کرنے کے ان سے بچنے کی دعا کرتے تھے ۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرْكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَشَمَائَةِ الأعداء ( بخاری کتاب الدعوات باب التعوذ من جهد البلاء) رسول کریم ہمیشہ خدا سے پناہ مانگتے تھے کہ مجھ پر کوئی ایسی مصیبت نہ آئے جو میری طاقت سے بڑھ کر ہو کوئی ایسا کام نہ پیش آجائے کہ جس کا نتیجہ ہلاکت ہو ۔ اور کوئی خدا کا فیصلہ ایسا نہ ہو کہ جس کو میں ناپسند کروں اور کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو کہ جس سے میرے دشمنوں کو خوشی کا موقع ملے۔ اس دعا سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ کے دل میں کیسی خشیت الہی تھی اور آپ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کیسا کمزور جانتے اور کبھی اپنی بڑائی کے لئے اور اپنے ایمان کے اظہار کے لئے کسی بڑے کام یا ابتلاء کی آرزو نہ فرماتے اور یسی حقیقی ایمان ہے جس کی اقتداء کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے ۔ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أسْوَةٌ ة حسنة - ( الا (الاحزاب : ۲۲) رسول کریم اللی کی ایک اور دعا بھی ہے جو آ۔ آپ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے طلب فرماتے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں کس قدر خوف الہی تھا ابو موسی فرماتے ہیں آپ ہمیشہ دعا فرماتے تھے کہ اللّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَ جَهْلِي وَإِسْرَا فِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَ جِدِى وَ خَطَايَايَ وَعَمْدِى وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي (بخاری کتاب الدعوات باب قول النبي صلى الله عليه وسلم اللهم اغفر لي ما قدمت و آخرت) اے اللہ میرے اعمال کے نتائج بد سے مجھے محفوظ رکھ اور میری خطاؤں کے نتائج سے بھی۔ میں اگر اپنی ناواقفیت کی وجہ سے کوئی کام جو کرنا ہو نہ کروں یا کوئی کام جس حد تک مناسب تھا اس سے زیادہ کر بیٹھوں اور جسے تو میری نسبت زیادہ جانتا ہے تو اس کے نتائج سے بھی مجھے محفوظ رکھ ۔ اے اللہ اگر کوئی بات میں بے دھیان کہہ بیٹھوں یا متانت سے کہوں ، غلطی سے کہوں یا جان کر کہوں اور یہ سب کچھ مجھ میں ممکن ہے۔ پس تو ان میں سے اگر کسی فعل کا نتیجہ بد نکلتا ہو تو اس سے مجھے محفوظ رکھیو۔ حضرت عائشہ رسول کریم کی ایک اور دعا بھی بیان فرماتی ہیں اور وہ بھی اس بات پر شاہد ہے کہ جو ایمان و خشیت رسول کریم ال میں تھی اس کی نظیر کسی اور انسان میں نہیں مل سکتی۔ انسان دعا اس سے مانگتا ہے جس پر یقین ہو کہ یہ کچھ کر سکتا ہے۔ ایک موحد جو بتوں کی بیکسی سے