انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 471

اور اپنے آپ کو تیری پناہ میں دیتا ہوں۔تجھ سے نفع کا امیدوار ہوں۔تیری بڑا ئی اور استغنا سے خائف بھی ہوں تیرے غضب سے بچنے کے لیےکو ئی پناہ کی جگہ نہیں اور نہ کوئی نجات کا مقام ہے مگر یہی کہ تجھ ہی سے نجات وپناہ طلب کی جا ئے۔میں اس کتاب پر جو تو نے نازل کی ہے اور اس رسول ؐ پر جو تو نے بھیجا ہے ایمان لا تا ہوں۔لوگ اپنی دو کان کو بند کر تے وقت اس کا حساب کر لیتے ہیں مگر خدا سے جو حساب ہے اسے صاف نہیں کرتے مگر کیسا برگزیدہ وہ انسان تھا جو صبح سے شام تک خدا کے فرا ئض کے ادا کر نے میں لگا رہتا اور خود ہی انہیں ادا نہ کر تا بلکہ ہزاروں کی نگرانی بھی سا تھ ہی کر تا تھا کہ وہ بھی اپنے فرائض کو ادا کر تے ہیںیا نہیں مگر رات کو سونے سے پہلے اپنی تمام کو ششوں اور عبادتوں سے آنکھ بند کر کے عاجزانہ اپنے مولیٰ کے حضور میں اس طرح حساب صاف کرنے کے لیےکھڑا ہو جا تا کہ گو یا اس نے کو ئی خدمت کی ہی نہیں اور اس وقت تک نہ سو تا جب تک اپنی جان کو پو رے طور سے خدا کے سپرد کرکے دنیا ومافیھا سے بر اءت نہ ظاہر کرلیتا اور خدا کے ہا تھ میں اپنا ہا تھ نہ دے لیتا۔لطیفہ اس دعا سے ایک عجیب نکتہ معلوم ہو تا ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم ؐ کو اپنی نبوت پر اس قدر یقین کامل تھا کہ آپؐ عین تنہا ئی میں ہر رو ز سو تے وقت خدا کے سامنے اقرار فرماتے کہ مجھےاپنی نبوت پر ایمان ہے اور اسی طرح قرآن شریف پر بھی ایمان ہے جس سے معلوم ہو تا ہے کہ آپ ؐ اپنی تعلیم کو لوگوں کے لیےہی قابل عمل نہیں جانتے تھے بلکہ سب سے پہلے اپنے نفس کو کہتے تھے کہ یہ حکم خدا کا آیا ہے اور اس کا رسول یوں کہتا ہے کہ اس پر ایمان لا۔اس لیےتو آپؐ فر ما تے ہیں کہاٰمَنْتُ بِکِتَا بِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلَتَ۔آپؐ ابتلا ؤں اور عذابوں سے پناہ مانگتے رہتےبعض لوگوں کی عا دت ہو تی ہے وہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو فتنوں میں ڈالتے ہیں اور اس طرح اپنے نفس کا امتحان کر تے ہیں مگر یہ لوگ بعض دفعہ ان فتنوں میں ایسے گرتے ہیں کہ پھر سنبھلنے کی طا قت نہیںرہتی اور بجا ئے تر قی کر نے کے ان کا قدم نیچے ہی نیچے چلا جا تا ہے کچھ آدمی ایسے ہو تے ہیں جو خود بڑے بڑے کام طلب کر تے ہیں کہ ہمیں اگر ایسی مصیبت کا موقع ملے تو ہم یوں کریں اور یوں کریں اور اس طرح دین کی خدمت کریں لیکن رسول کریمؐ کی نسبت اس کے خلاف ہے۔آپؐ کبھی پسند نہ فرما تے تھے کہ کو ئی انسان خدا تعالیٰ سے ابتلاؤں کی خواہش کرے کیونکہ کو ئی کیا جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا۔ممکن ہے کہ خد اکی غیرت اسے تباہ کر دے۔