انوارالعلوم (جلد 1) — Page 471
انوار العلوم جلدا ۴۷۱ سيرة النبي اللة اور اپنے آپ کو تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ تجھ سے نفع کا امیدوار ہوں۔ تیری بڑائی اور استغنا سے خائف بھی ہوں تیرے غضب سے بچنے کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہیں اور نہ کوئی نجات کا مقام ہے مگر یہی کہ تجھ ہی سے نجات و پناہ طلب کی جائے میں اس کتاب پر جو تو نے نازل کی ہے اور اس رسول پر جو تو نے بھیجا ہے ایمان لاتا ہوں۔ لوگ اپنی دوکان کو بند کرتے وقت اس کا حساب کر لیتے ہیں مگر خدا سے جو حساب ہے اسے صاف نہیں کرتے ۔ مگر کیسا برگزیدہ وہ انسان تھا جو صبح سے شام تک خدا کے فرائض کے ادا کرنے میں لگا رہتا اور خود ہی انہیں ادا نہ کرتا بلکہ ہزاروں کی نگرانی بھی ساتھ ہی کرتا تھا کہ وہ بھی اپنے فرائض کو ادا کرتے ہیں یا نہیں مگر رات کو سونے سے پہلے اپنی تمام کوششوں اور عبادتوں سے آنکھ بند کر کے عاجزانہ اپنے مولی کے حضور میں اس طرح حساب صاف کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا کہ گویا اس نے کوئی خدمت کی ہی نہیں اور اس وقت تک نہ سوتا جب تک اپنی جان کو پورے طور سے خدا کے سپرد کر کے دنیا و ما فیھا سے براءت نہ ظاہر کر لیتا اور خدا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دے لیتا۔ اس دعا سے ایک عجیب نکتہ معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم کو اپنی نبوت پر اس قدر لطیفہ یقین کامل تھا کہ آپ عین تنہائی میں ہر روز سوتے وقت خدا کے سامنے اقرار فرماتے کہ مجھے اپنی نبوت پر ایمان ہے اور اسی طرح قرآن شریف پر بھی ایمان ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی تعلیم کو لوگوں کے لئے ہی قابل عمل نہیں جانتے تھے بلکہ سب سے پہلے اپنے نفس کو کہتے تھے کہ یہ حکم خدا کا آیا ہے اور اس کا رسول یوں کہتا ہے کہ اس پر ایمان لا۔ اس لئے تو آپ فرماتے ہیں کہ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَ نَبِيِّكَ الَّذِي أَرْ سَلْتَ۔ بعض عادت وہ آپ ابتلاؤں اور عذابوں سے پناہ مانگتے رہتے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے وہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو فتنوں میں ڈالتے ہیں اور اس طرح اپنے نفس کا امتحان کرتے ہیں مگر یہ لوگ بعض دفعہ ان فتنوں میں ایسے گرتے ہیں کہ پھر سنبھلنے کی طاقت نہیں رہتی اور بجائے ترقی کرنے کے ان کا قدم نیچے ہی نیچے چلا جاتا ہے کچھ آدمی ایسے ہوتے ہیں جو خود بڑے بڑے کام طلب کرتے ہیں کہ ہمیں اگر ایسی مصیبت کا موقع ملے تو ہم یوں کریں اور یوں کریں اور اس طرح دین کی خدمت کریں لیکن رسول کریم کی نسبت اس کے خلاف ہے۔ آپ کبھی پسند نہ فرماتے تھے کہ کوئی انسان خدا تعالی سے ابتلاؤں کی خواہش کرے کیونکہ کوئی کیا جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا۔ ممکن ہے کہ خدا کی غیرت اسے تباہ کر دے۔