انوارالعلوم (جلد 1) — Page 21
انوار العلوم جلد 1 ۲۱ محبت الهی ایک انسان خدا سے اپنا تعلق توڑ بیٹھا اور راندہ درگاہ الہی ہو گیا ۔ مگر اس کے بر خلاف دوسری مخلوق ایسا نہیں کر سکتی اور نہ ان میں یہ طاقت اور قوت ہے صرف انسان کو ہی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دیکھتا ہے اور سوچتا ہے پھر اس کے بعد جو اس کی ضمیر فیصلہ کرتی ہے اس پر عمل کرتا ہے خواہ تو اپنے برے اعمال کی وجہ سے اس طرف میلان کرے کہ جس طرف رجوع کرنے سے وہ ہمیشہ کیلئے تباہ ہو جائے اور یا اس راہ کو اختیار کرے کہ خدا کے فضل سے منزل مقصود تک پہنچ جائے اور یہ خداتعالی اپنے پاک کلام قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ اِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَا بَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا ۔ (احزاب : ۷۳) یعنی ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی پس انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور ڈرے مگر انسان نے اس کو اٹھالیا۔ تحقیق انسان ظالم اور جاہل ہے اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنی امانت یعنی محبت کو آسمانوں کے رہنے والوں یعنی فرشتوں اور زمین کے حیوانات اور پہاڑوں کے جانداروں پر پیش کیا مگر وہ اس کے اٹھانے سے ڈرے اور انکار کر دیا مگر انسان نے جو کہ ظالم اور جاہل ہے اس کو اٹھا لیا اور محی الدین ابن عربی صاحب جو کہ ائمہ اسلام میں سے گزرے ہیں فرماتے ہیں کہ اس جگہ پر انسان کی تعریف ہے مذمت نہیں اور ظالم اور جاہل کے الفاظ جو کہ بظاہر برے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں اس جگہ پر تعریف کے طور پر استعمال ہوئے ہیں اور وہ اس طرح ہے کہ ظالم سے مراد ہے کہ انسان اپنی جان پر ظلم کر سکتا ہے اور ان مصیبتوں اور تکلیفوں کو برداشت کر سکتا ہے جو کہ خدا کی محبت میں اس کو پیش آئیں۔ اور جاہل اس لئے کہ اس نے ان تکالیف اور شدائد کی بابت سوچا بھی نہیں جو اس کو اس راہ میں پیش آسکتی تھیں۔ اور دوسرے حیوانات نے دور اندیشی سے اس سے انکار کر دیا اور گو کہ اس جگہ انسان نے دور اندیشی سے کام نہیں لیا لیکن یہ اس کی تعریف ہے کہ اس نے خدا تعالیٰ کی محبت کو ایک پیاری اور عمدہ چیز دیکھ کر کسی اور بات کا خیال بھی نہیں کیا۔ اور وہ بوجھ جس کا اٹھانا دوسروں نے ناپسند کیا تھا اس کو برضا و رغبت اٹھا لیا۔ اور اسی لئے ہے کہ جب انسان اپنے عہد اور اقرار کو پورا کرتا اور خدا کی محبت میں اپنے آپ کو باوجود سخت سخت مصیبتوں اور تکلیفوں کے ثابت قدم رکھتا ہے تو اس پر اس قدر انعام اور اکرام ہوتے ہیں جو کہ کسی اور مخلوق پر نہیں ہوتے۔ پس یہ بات ثابت ہے کہ انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو کہ محبت کرنے کیلئے پیدا کی گئی ہے۔ اور جس میں ایک طاقت رکھی گئی ہے کہ وہ اپنے خیال میں اپنے نفع یا نقصان کو سوچ سمجھ کر ایک چیز سے