انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 469

انوار العلوم جلدا ۴۶۹ سيرة النبي ال کیا آپ مجھے گندہ جانتے ہیں کیا میں گناہ گار ہوں کہ آپ مجھے نیکی اور تقویٰ اور استغفار کے لئے کہتے ہیں ؟ میں یہ بات سنکر حیران ہی ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے اتنا نا واقف ہے اور اس کے جلال سے اتنا بے خبر ہے کہ اسے اتنی بھی نہیں سمجھ کہ اس بادشاہ سے انسان کو کیسا خائف رہنا چاہئے دنیاوی بادشاہوں کے مقربین کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی خدمت و خوشامد کے باوجود بھی ان سے یہی عرض کرتے رہتے ہیں کہ اگر کچھ قصور ہو گیا ہو تو عضو فرمائیں۔ بے شک بہت سے لوگ حتی المقدور نیکی کا خیال رکھتے ہیں مگر پھر بھی انسان سے خطا کا ہو جانا کچھ تعجب کی بات نہیں۔ رسول کریم کو دیکھو کیسی معرفت تھی ، کیسی احتیاط تھی ، کس طرح خدا تعالی سے خائف رہتے تھے اور باوجود اس کے کہ تمام انسانوں سے انسانوں سے زیادہ آپ کامل تھے اور ہر قسم کے گناہوں سے آپ آپ پاک تھے۔ خود اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ و نگہبان تھا مگر باوجود اس تقدیس اور پاکیزگی کے یہ حال تھا کہ ہر وقت اللہ تعالٰی سے خائف رہتے نیکی پر نیکی کرتے ، اعلیٰ سے اعلیٰ اعمال بجالاتے، ہر وقت عبادت الہیہ میں مشغول رہتے مگر باوجود اس کے ڈرتے اور بہت ڈرتے۔ اپنی طرف سے جس قدر ممکن ہے احتیاط کرتے مگر خداتعالیٰ کے غناء کی طرف نظر فرماتے اور اس کے جلال کو دیکھتے تو اس بارگاہ صمدیت میں اپنے سب اعمال سے سے دستبردار ہو جاتے اور استغفار کرتے تے اور جب موقع ہو موقع ہوتا تو بہ کرتے۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الـ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لَا سْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ اكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً (بخارى كتاب الدعوات باب استغفار النبي صلى الله علیہ وسلم میں نے آنحضرت ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ خدا کی قسم میں دن میں ستر دفعہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی کمزوریوں سے عفو کی درخواست کرتا ہوں اور اس کی طرف جھک جاتا ہوں۔ رسول کریم اللہ تعالیٰ کے فضل سے گناہوں سے پاک تھے نہ صرف اس لئے کہ انبیاء کی جماعت مَعْصوم عن الاثم و الجرم ہوتی ہے بلکہ اس لئے بھی کہ انبیاء میں سے بھی آپ سب کے سردار اور سب سے افضل تھے آپ کا اس طرح استغفار اور توبہ کرنا بتاتا ہے کہ خشیت الہی آپ پر اس قدر غالب تھی کہ آپ اس کے جلال کو دیکھ کر بے اختیار اس کے حضور میں گر جاتے کہ انسان سے کمزوری ہو جانی ممکن ہے تو مجھ پر اپنا فضل ہی کر ۔ وہاں تو یہ خشیت تھی اور یہاں یہ حال ہے کہ ہم لوگ ہزاروں قسم کے گناہ کر کے بھی استغفار و توبہ میں کو تاہی کرتے ہیں اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَاتُوبُ إِلَيْهِ