انوارالعلوم (جلد 1) — Page 459
انوار العلوم جلدا ۴۵۹ سيرة النبي اللة دیکھ کر آپ کو قتل تو کیا کرنا تھا خود اپنے نفس کو قتل کر کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گیا۔ کیا کوئی ایک نظیر بھی دنیا میں ایسی معلوم ہوتی ہے کہ جس سے یہ ہوتی ہے کہ جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ایسی آزاد اور خونخوار قوم کو کسی نے ایسا مطیع کیا ہو اور وہ اپنی آزادی چھوڑ کر غلامی پر آمادہ ہو گئی ہو اور ہر قسم کی فرمانبرداری کے نمونے اس نے دکھائے ہوں۔ اگر کوئی ایسی قوم پائی جاتی ہو تو اس کا نشان و پستہ ہمیں بتاؤ تاہم بھی تو اس کے حالات سے واقف ہوں۔ لیکن میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی مصلح ایسے وسیع اخلاق لے کر دنیا میں نہیں آیا جیسا کہ ہمارا آقا الا اور اس لئے کسی مصلح کی جماعت نے ایسی فدائیت نہیں دکھائی جیسے ہمارے آنحضرت اللہ ﷺ کے صحابہ نے چنانچہ بخاری شریف میں صلح حدیبیہ کے واقعات میں مسور بن مخرمہ کی روایت ہے کہ جب آپ حدیبیہ میں ٹھہرے ہوئے تھے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ اللہ تھوکتے تھے تو صحابہ اچک کر آپ کا تھوک ! آپ کا تھوک اپنے منہ اور ہاتھوں پر مل لیتے تھے اور جب و وضو کرنے لگتے تو وضو کے بچے ہوئے پانی کے لینے کے لئے اس قدر لڑتے کہ گویا ایک دوسرے کو قتل کر دیں گے ۔ اور جب آپ کوئی حکم دیتے تھے تو ایک دوسرے کے آگے بڑھ کر اس کی تعمیل کرتے اور جب آپ بولنے لگتے تو سب اپنی آوازوں کو نیچا کر لیتے اور صحابہ کے اس اخلاص اور محبت کا ان ایلچیوں پر جو گفتگو کے لئے آئے تھے ایسا اثر پڑا کہ انہوں نے اپنی قوم کو واپس جا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کی مخالفت سے باز آجا ئیں۔ اسی طرح بخاری میں لکھا ہے کہ جنگ احد پر جانے کے متعلق جب آپ نے انصار سے سوال کیا تو سعد بن عبادہ ہمیں اللہ نے آپ کو جواب دیا یا رسول الله اصلی یہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم حضرت موسی کے ساتھیوں کی طرح کہہ دیں گے کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قعدون (المائده : ۲۵) یعنی تو اور تیرا رب جاؤ اور دونوں دشمنوں سے لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ حدا کی قسم ہم تیرے آگے بھی اور پیچھے بھی اور دائیں بھی اور بائیں بھی تیرے دشمنوں سے مقابلہ کریں گے۔ اے چشم بصیرت رکھنے والو! اے فہیم دل رکھنے والو خدارا ذرا اس جواب کا اس جواب سے مقابلہ تو کرو جو حضرت موسیٰ کو ان کی امت نے دیا اور اس عمل سے بھی مقابلہ کرو جو حواریوں سے حضرت مسیح کے گرفتار ہونے کے وقت سرزد ہوا ۔ اور پھر بتاؤ کہ کیا اس قربانی اس فدائیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہمار ا رسول ایسے اخلاق رکھتا تھا کہ جن کی نظیر دنیاوی بادشاہوں میں تو خیر تلاش کرنی ہی فضول ہے دینی بادشاہوں یعنی نبیوں میں بھی نہیں مل سکتی ۔ اور اگر کوئی نبی ایسے اخلاق رکھتا تو ضرور اس کی امت بھی اس پر اس طرح فدا ہوتی جس طرح آپ پر۔