انوارالعلوم (جلد 1) — Page 19
انوار العلوم جلد 1 بسم الله الرحمن الرحیم ۱۹ محبت الهی محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم محبت اللهی محبت کیا ہے ؟ بعض کہتے ہیں کہ محبت ایک خیال ہے اور بعض کا قول ہے کہ محبت ایک جذبہ ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ محبت ایک اور ہی چیز ہے جو کہ انسان کی پیدائش کے وقت جبکہ وہ پہلا سانس لیتا ہے اس میں داخل کی جاتی ہے۔ تو کیا محبت ایک انسانی فطرت ہے ؟ نہیں نہیں ۔ محبت ایک غرض ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آدمی کا نام ہی انسان رکھا گیا۔ ہے جس کے معنے ہیں محبت کرنے والا جیسے کہ سورۃ الرحمن میں خدائے عزو جل نے فرمایا ہے کہ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن: ۴-۵) یعنی انسان کو پیدا کیا اور اس کو قوت بیانیہ بخشی علمه البیان کے معنے اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے کیا ہی صاف ہو جاتے ہیں کہ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : (۵۷) اب دیکھنا چاہئے کہ عبادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک قولا اور ایک فعلاً ۔ پس اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے انسان کو قوت بیانیہ بخشی پس کیا وجہ ہے کہ وہ میری نافرمانی کرتا اور اس قوت بیانیہ سے جو میں نے اس کو عطا کی ہے میری تسبیح و تقدیس نہیں بیان کرتا۔ خلق الانسان سے پایا جاتا ہے کہ خدا تعالی اس جگہ اشارہ کرتا ہے۔ اے آدمی میں نے تو تیری پیدائش ہی میں محبت کرنا رکھ دیا ہے۔ تیرا مقصود تو محبت کرنا ہے پھر تو اس قدر احسانات اور عنایات کے باوجود جو کہ میں تجھ پر کرتا ہوں غیر کی محبت میں پڑ گیا ہے۔ اس جگہ ان آیات کے لکھنے سے میرا صرف اتنا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدمی کو پیدا ہی محبت کے لئے کیا ہے اور اس کے پیدا کرنے کا مقصد اور غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہو اور اس دائمی زندگی بخشنے والے سمندر رمیں ہمیشہ غوطہ زن رہے جیسا کہ کسی شخص کا قول ہے کہ ورد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ور نہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں