انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 440

ہماري ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے کوئي تدبيرنہ کرے گا؟ جرأت اور ہمت اور استقلال سے کام ليتے ہوئے اس کے حضور ميں گر جاؤ تو وہ تمہاري ہر مشکل کو آسان کر دے گا اور ہر طرف سے آسمان کے دروازے تم پر کھل جائيں گے۔کيا يہ سچ نہيں کہ وہ ہر احمدي کي مدد کرتا ہے اور بہت سے ہيں کہ جو زمين سے اٹھا کر آسمان پر بٹھاديئے گئے ہيں اور سينکڑوں ہيں کہ جنہيں گڑ ھوں سے نکال کر بلند پہاڑوں کي چوٹيوں پر جگہ دي گئي ہے۔پھر کياوه خدا تمہاري ان ضروريات کو پورا کرنے کے لئے کچھ سامان نہ کرے گا۔مجھے خوب ياد ہے کہ جب تعليم الاسلام ہائي سکول کے لئے بورڈنگ کي تجويز ہوئي اور پچاس ہزار کي ضرورت بتائی گئي تو ہزاروں تھے جو کہتے تھے کہ اس کمزور جماعت سے يہ کب ہو سکتا ہے۔ليکن کيا پھر صرف بورڈنگ ہي نہيں بلکہ سکول بھي تيار نہ ہو گيااور کيا تعمير کے اخراجات کے ہوتے ہوئے تمہاري ہي جيبوں سے دوسرے بيسيوں کاموں کے لئے ہزاروں نہيں بلکہ لاکھوں روپے نہيں نکلے۔يہ سب کچھ کيونکر ہواخداکے حکم سے اور اس لئے کہ خدا تمہارے ساتھ ہے اور جب تم دين کي راہ ميں خرچ کرتے ہو تو وہ تمہارے لئے آمدن کے اور کئي دروازے کھول ديتا ہے۔پس جس نے يہ شک کيا کہ يہ جماعت اتنے بوجھ کيونکر اٹھائے گي اس نے اس بات کو جھٹلا ديا کہ يہ جماعت اللہ کے فضل سے آخَرِيْنَ مِنْھُمْ کي مصداق ہے اور اس نے اس کي ناقدري کي۔ابھي ايک اخبار کيا بيسيوں کام تم نے کرنے ہيں اور تمہيں کرنے پڑيں گے اور وہ ضرور ہو کر رہيں گے کيو نکہ خد اکے منشا پورے ہو کر رہتے ہيں۔ليکن يہ سب ترقی اسی طرح غير معلوم طور سے ہوگي جس طرح ايک بيج سے جنگل بن جاتا ہے اور عقل اس کو نہيں سمجھ سکتي۔اس اخبار کے کيا اغراض ہوں گے ميں مختصراً اس اخبار کے اغراض بيان کر دينا بھي اس جگہ ضروري سمجھتا ہوں 1۔مذہب اسلام کى خوبىوں کو مخالفىن کے سامنے پىش کرنا۔قرآن شرىف کے کمالات سے آگاہ کرنا۔2۔حضرت صاحبؑ کى تعلىم اور آپؑ کى جماعت کى خصوصىات کو لوگوں پر ظاہر کرنا۔3۔جماعت کومذ ہب اسلام سے واقف کرنا اور ہر قسم کى بدعات اور رسومات کى ظلمتوں سے نکالنے کى کوشش کرنا اور اخلاق کى درستى کى طرف توجہ دلانا۔4۔تارىخ ِاسلام کے ان مفىد حصوں کو شائع کرنا جن سے ہمت، استقلال ، قربانى ، جرأت، اىثار ، اىمان ، وفادارى وغىره خصالِ حسنہ مىں ترقى کى تحرىک ہو۔