انوارالعلوم (جلد 1) — Page 438
انوار العلوم جلدا ۲۳۸ اخبار فضل کا پراسپیکٹس تعالٰی کے قائم کردہ سلسلوں کے افراد کو ہر معاملہ میں دوسروں سے بڑھ کر قدم مارنا چاہئے اور سب مفید علوم میں ان کا نمبر دو سروں پر فائق ہونا ضروری ہے۔ ایک نئے اخبار کی یہ ہے کہ بہت سے احمدی ہیں کہ جو احمدی تو ہو گئے ہیں دوسری ضرورت لیکن ان کو بھی معلوم نہیں کہ احمدی ہو کر ہم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اور کس طرح ہمیں دوسروں کی نسبت رسومات و بدعات اور مقامات اسراف سے بچنا چاہئے ۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بھی ایک سخت کوشش کی ضرورت ہے۔ یہ ہے کہ ترقی کرنے والی قوم کے لئے اپنے اسلاف کے نیک کاموں بلند تیسری ضرورت ارادوں، وسیع الحوصلگیوں ، صبر و استقلال کے کارناموں سے را سے واقف ہونا اور اپنے کام کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کی مشقت اٹھانے کے لئے تیار ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے احمدی جماعت کو تاریخ اسلام سے واقفیت بھی ضروری ہے خصوصاً رسول کریم (فداہ ابی و امی ) اور صحابہ کی تاریخ ہے۔ اس وقت یہ ہے کہ ہندوستان نہیں بلکہ دنیا کی اکثر قوموں میں اس چوتھی اشد ضرورت وقت سخت بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور ایک دو سرے کے خلاف بغض و عناد کا دریا جوش مار رہا ہے۔ اور اس سلسلہ میں ہندوستان میں بھی ایک گروہ ایسا پیدا ہو گیا ہے کہ جو گورنمنٹ انگلشیہ کے خلاف عجیب عجیب رنگ سے بد ظنیاں پھیلا رہا ہے اور وفاداری کے پردہ میں اس حکومت کو کمزور کرنے کی فکر میں ہے۔ اور چونکہ ہمارا کوئی ایسا اخبار نہیں کہ جو سیاست کے اہم مسائل پر اس نقطۂ خیال سے روشنی ڈالے کہ جو حضرت صاحب نے قائم کیا ہے اس لئے خطرہ ہے کہ ہم میں سے بعض احباب اس کو میں نہ بہہ جائیں اس لئے ضروری ہے کہ بڑے زور سے اس معاملہ پر حضرت صاحب کی تحریروں سے روشنی ڈالی جائے اور احمدیوں میں اس سیاست کو رائج کیا جائے جسے حضرت صاحب نے پیش کیا۔ اور ان اصولوں کو شہرت دی جائے جن پر حضرت صاحب احمدی جماعت کو چلانا چاہتے تھے ۔ اور احمدی جماعت کو اس موقعہ پر اس کے اہم فرائض بار بار یاد دلائے جائیں تاکہ وہ اپنے امام کے پیش کردہ معیار وفاداری پر قائم رہیں۔ احمدی جماعت میں تعلیم کا پھیلانا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ پانچویں نہایت اشد ضرورت جس طرح ہندوستان میں اور قومیں تعلیم میں پیچھے رہی ہوئی ہیں۔ اسی طرح احمدی بھی تعلیم میں سست ہیں حالانکہ اللہ فرماتا ہے هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ