انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 417

مظفر ہوتے ہیں۔اور اس تعلیم کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ یہ بات پہلے مذاہب میں مشترک ہے۔چنانچہ اس وقت کے بڑے مذاہب مسیحی، یہودی اور کفار مکہ پر حجت کے لئے حضرت ابراہیم ؑ اور موسی ٰ کی مثال دیتا ہے کہ ان کو تو تم مانتے ہو انہوں نے بھی یہ تعلیم دی ہے پس قرآن شریف نے ہستی باری تعالیٰ کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ بھی دیا ہے کہ کُل مذاہب اس پر متفق ہیں اور سب اقوام کا یہ مشترک مسئلہ ہے۔چنانچہ جس قدر اس دلیل پر غور کیا جائے نہایت صاف اور سچی معلوم ہوتی ہے۔حقیقت میں کل مذاہب دنیا اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی ہستی ہے جس نے کُل جہان کو پیدا کیا۔مختلف ممالک اور احوال کے تغیر کی وجہ سے خیالات اور عقائد میں بھی فرق پڑتا ہے۔لیکن باوجود اس کے جس قدر تاریخی مذاہب ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے وجود پر متفق اللّسان ہیں۔گواس کی صفات کے متعلق ان میں اختلاف ہو موجودہ مذاہب یعنی اسلام، مسیحیت، یہودیت، بدھ ازم، سکھ ازم، ہندوازم اور زرتشتی سب کے سب ایک خدا ایلوہیم، پرم ایشور، پرم آتما، ست گرو، یایزدان کے قائل ہی ہیں مگر جو مذاہب دنیا کے پردہ سے مٹ چکے ہیں ان کے متعلق بھی آثار قدیمہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سب کے سب ایک خدا کے قائل اور معتقد تھے۔خواہ وہ مذاہب امریکہ کے جداشدہ ملک میں پیدا ہوئے ہوں یا افریقہ کے جنگلوں میں، خواہ رومامیں خواہ انگلستان میں خواہ جاوا سماٹرا میں خواہ جاپان اور چین میں خواہ سائبریا و منچوریا میں۔یہ اتفاق مذاہب کیونکر ہوا اور کون تھا جس نے امریکہ کے رہنے والے باشندوں کو ہندوستان کے عقائد سے یا چین کے باشندوں کو اہل افریقہ کے عقائد سے آگاہ کیا۔پہلے زمانہ میں ریل و تار اور ڈاک کا یہ انتظام تو تھا نہیں جو اَب ہے۔نہ اس طرح جہازوں کی آمدورفت کی کثرت تھی، گھوڑوں اور خچروں کی سواری تھی اور بادبانی جہاز آجکل کے دنوں کا سفر مہینوں میں کرتے تھے اور بہت سے علاقے تو اس وقت دریافت بھی نہ ہوئے تھے۔پھر ان میں مختلف المذاق اور مختلف الرسوم اور ایک دوسرے سے ناآشنا ممالک میں اس ایک عقیدہ پر کیونکر اتفاق ہوگیا۔من گھڑت ڈھکوسلوں میں تو دو آدمیوں کا اتفاق ہونا مشکل ہوتا ہے۔پھر کیا اس قدر قوموں کا اور ملکوں کا اتفاق جو آپس میں کوئی تبادلہ خیالات کا ذریعہ نہ رکھتی تھیں اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ عقیدہ ایک امر واقعہ ہے اور کسی نامعلوم ذریعہ سے جسے اسلام نے کھول دیا ہے ہر قوم پر اور ہر ملک میں اس کا اظہار کیا گیا ہے۔اہل تاریخ کا اس پر اتفاق ہے کہ جس مسئلہ پر مختلف اقوام کے مؤرخ متفق ہوجاویں اس کی راستی میں شک نہیں کرتے۔پس جب اس مسئلہ پر ہزاروں لاکھوں قوموں نے اتفاق کیا ہے تو کیوں نہ یقین کیا جائے کہ کسی جلوہ کو دیکھ کر ہی سب دنیا اس خیال کی