انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 14

انوار العلوم جلد 1 ۱۴ چشمه توحید تابعداری ہی کر اور اس کی تابعداری کر جو میری طرف جھکتا ہے کیوں کہ پھر تمہار الو ثنا میری طرف ہے جہاں کہ تم کو تمہارے اعمال سے خبردار کیا جائے گا۔ یہاں خدا تعالی سخت تاکید کرتا ہے کہ والدین کی بھی اس معاملہ میں پرواہ مت کرو اور مجھ سے شرک نہ کرو اور جب کہ تم میں اور والدین میں ایک قسم کی جدائی ہوئی تو گویا کہ تم ایک یتیم کی طرح رہ گئے مگر خدا تعالیٰ کسی کا احسان نہیں اٹھاتا۔ پھر خدا تعالیٰ نے جیسا کہ تمہارے پیدا ہونے کے وقت تمہارے والدین سے کیا یعنی ان کے دلوں میں محبت ڈال دی ویسا ہی اب اپنے رسول یا مامور کے دل میں تمہاری محبت ڈال دے گا بلکہ اس سے بڑھ کر کیونکہ خدا کچھ چیزلے کے زیادہ کر کے واپس کرتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ و اتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ اَنَابَ اِلی جو میری طرف جھکتا ہے یعنی اس کے رسول کی تابعداری کرو۔ اور اسی کو والدین تصور کرو ۔ اب پھر لقمان کا قول آیا ۔ بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَوتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ يعنى ایسے ہی اگر ایک ذرا سادا نہ ہو جو رائی کے برابر ہو تو خواہ وہ پتھر میں یا آسمانوں میں اور خواہ زمین میں ہو اس کو لے آئے گا کیوں کہ لطیف خبیر ہے ۔ یہاں بھی حضرت لقمان اپنے بیٹے کو بتاتے ہیں کہ خدا ذراذراسی بات کو بھی جانتا ہے۔ پس شرک سے انتابیچ کہ رائی کا ایک حصہ بھی نہ رہے پھر ہے یبنی اَقِمِ الصَّلوةَ وَامُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ یعنی اے بیٹے نماز کو قائم کر ۔ نیک باتوں کا وعظ کر اور بدیوں سے لوگوں کو منع کر اور صبر کر اس مصیبت پر جو تجھے پہنچے کیوں کہ یہ بڑے کاموں میں سے ہے۔ اس جگہ حضرت لقمان اپنے بیٹے کو فرماتے ہیں کہ صرف بدی سے بچنا کوئی کمال نہیں بلکہ بدی سے بچنا اور پھر نیکی کرنا کمال ہے۔ پس اس لئے فرماتے ہیں کہ شرک کو ترک کرنے کے بعد نماز کو قائم کر دے ۔ یعنی اپنی عبادتوں کو سنوار - یہاں تک کہ تیرا بولنا تیر اسنا اور کھانا پینا خدا کے لئے ہی ہو جا ہی ہو جائے ۔ جس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ خدا کا مامور ہو جائے گا اور لوگوں کو نیک باتیں سنانا اور بدیوں سے منع کرنا تیرا کام ہو جائے گا۔ پھر اس وقت جیسا کہ سنت ہے لوگ تیرے مخالف ہو جائیں گے اور تکلیفیں اور اذیتیں تجھ کو دیں گے کیوں کہ رسولوں کے ساتھ شروع شروع میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ پس تو ان باتوں پر صبر کر کیونکہ یہ بڑے امور سے ہے پھر ہے کہ لَا تُصَوِّرُ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلِّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ یعنی لوگوں کے لئے اپنے منہ کو مت رمت موڑ اور زمین میں کبر اور اکٹر سے مت چل کیونکہ خدا کو متکبر اور فخر کرنے والا انسان پسند نہیں ہوتا۔ اب حضرت لقمان فرماتے ہیں