انوارالعلوم (جلد 1) — Page 392
انوار العلوم جلدا ۳۹۲ جواب اشتہار غلام سرور کانپوری مدرسہ الہیات کے پرنسپل جناب مولوی عبد القادر صاحب آزاد سبحانی بھی وہاں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے بھی کہا کہ واقعی اگر آپ لوگ استفادہ کے طور پر آئے ہیں تو بیشک جو دریافت فرمانا ہو ان لوگوں سے دریافت فرمادیں۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ پیچھے یہ استفادہ بحث کا رنگ پکڑ لے۔ اس پر وہ طالب علم صاحب جو سب کے زعیم معلوم ہوتے تھے ان کے بھی پیچھے پڑ گئے۔ آخر اس بحث کو کو تاہ کرنے کے لئے میں نے حافظ روشن علی صاحب کو مقرر کیا کہ وہ ان صاحبان کے سوالات کا جواب دیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک صاحب نے جن کا نام اس اشتہار سے حافظ مولوی محمد یوسف معلوم ہوتا ہے مذکورہ ذیل حدیث پیش کی کہ اس کو مرزا صاحب پر منطبق کریں۔ ” عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِلَى الْأَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَ يُولَدُ لَهُ يَمْكُثُ خَمْسًا وَ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يَمُوتُ وَيُدْفَنُ مَعِي فِي قَبْرِي فَا قُوْمُ أَنَا وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَر (مشکوۃ : ۴۸۰ باب نزول عیسی علیہ السلام) جس کا مطلب یہ ہے کہ فرمایا رسول اللہ اللہ نے کہ عیسی ابن مریم اتریں گے اور شادی کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہو گی اور پینتالیس سال رہ کر وفات پائیں گے اور دفن کئے جاویں گے میرے ساتھ میری قبر میں۔ پس کھڑے ہوں گے میں اور عیسی ابن مریم ایک ہی قبر سے ابو بکر عنی اللہ اور عمر رضی اللہ کے درمیان۔ اس کا جواب حافظ روشن علی صاحب نے یہ دیا کہ آپ پہلے اس حدیث کو رسول الله ال تک ثابت کریں۔ یعنی جیسا کہ حضرت امام بخاری و مسلم و ابوداود و ترندی و نسائی و ابن ماجه و امام مالک و امام احمد بن حنبل وغیر ہم کبار محدثین کا قاعدہ ہے کہ وہ جو حدیث بیان کرتے ہیں اس کے ساتھ وہ ساری سند بیان کرتے ہیں۔ کہ ہم نے کس سے سنا اور اس نے آگے کسی سے سنا یہاں تک کہ رسول الله ال تک پہنچا دیتے ہیں اسی طرح آپ بھی اس حدیث کی سند بیان کریں کہ یہ۔ کس شخص نے لکھی ہے اور اس نے آگے کس سے سنی تاکہ جو اس حدیث کے راوی ہیں ان پر جرح قدح ہو سکے ۔ اور معلوم ہو کہ آیا اس حدیث کے راویوں میں کوئی کمزور اور غیر معتبر راوی تو شامل نہیں ہے۔ کیونکہ جس شخص نے پہلے پہل یہ حدیث روایت کی ہے وہ رسول اللہ ال سے قریبا پانچ سو سال بعد گذرا ہے اس کو یہ حدیث کیونکر معلوم ہوئی ۔ جب وہ رسول اللہ ال کے وقت موجود نہ تھا۔ آخر کسی سے سنی ہو گی پس جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کس سے سنی اور جس سے سنی وہ معتبر تھا یا نہیں ہم اس حدیث کو حدیث رسول اللہ ا کیونکر مان لیں اگر