انوارالعلوم (جلد 1) — Page 391
انوار العلوم جلدا بسم الله الرحمن الرحیم ۳۹۱ جواب اشتہار غلام سرور کانپوری محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم جواب اشتهار غلام سرور کانپوری خدا کے لئے اعلیٰ حضرت نبی کریم ا میں کوئی خصوصیت تو باقی رہنے دو اتَّقُوا الله ! اتَّقُوا الله ! اتَّقُوا اللَّه !!! ای محمد در قیامت چون بر آری سرز خاک سر بر آوردیں قیامت در میان خلق بین کوئی صاحب غلام سرور نامی کانپور سے ایک اشتہار شائع کرتے ہیں جس میں انہوں نے اس بات کے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب میں اور چند دیگر احباب مختلف عربی مدارس کو دیکھنے کے لئے ہندوستان کے مختلف شہروں میں دورہ کرتے ہوئے کانپور بھی گئے تھے تو چند طلباء مدرسہ جامع العلوم نے آکر ہمارے سامنے ایک حدیث پیش کی اور ہماری طرف سے حافظ روشن علی صاحب اس کو حضرت مسیح موعود پر چسپاں نہ کر سکے اس لئے وہ اس معاملہ کو پبلک کی اطلاع کے لئے عام طور سے شائع کرتے ہیں۔ مجھے اس اشتہار کو پڑھ کر نہایت افسوس ہوا کہ واقعات کے چہرہ پر کیسا سیاہ پردہ ڈالا گیا ہے ۔ جو گفتگو ند کورہ بالا اشتہار میں شائع کی گئی ہے وہ بالکل غلط ہے۔ اور پھر اس مبدل و محرف مکالمہ سے نتائج بھی غلط نکالے گئے ہیں۔ اصل واقعہ یوں ہے کہ چند طلباء مدرسہ نے آکر ذکر کیا کہ ہم بعض احادیث آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ جس پر ان کو جواب دیا گیا کہ ہم یہاں مباحثہ کے لئے نہیں آئے ۔ ہاں اگر آپ ہمارے خیالات دریافت کرنا چاہیں تو بڑی خوشی سے آپ کو ان سے آگاہ کیا جاوے گا۔ جس پر انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ وہ محض استفادہ کے طور پر آئے ہیں (جس قول کی سچائی اشتہار دیکھنے والوں پر ظاہر ہو گئی ہو گی) چنانچہ اس وقت کانپور کے