انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 354

انوار العلوم جلد | ۳۵۴ گوشت خوری چنانچہ کالج پارٹی ماس خور ہی ہے۔ اور وہی زیادہ کام کر رہے ہیں۔ دیا نند کالج جو پنجاب کے کالجوں میں خاص شہرت رکھتا ہے اس پارٹی کا بنایا ہوا ہے اور اس کی کوششوں پر چلتا ہے۔ تعجب ہے کہ حیوانوں کی تکالیف پر تو آریہ اس قدر ناراض ہوتے ہیں اور تمام فرقوں اور قوموں سے دست وگریبان ہونے کے لئے تیار ہیں۔ اور اپنے جلسوں میں ان کی طرف سے ایڈووکیٹ بن کر کل گوشت خور قوموں کو ظالم اور مجرم قرار دیتے ہیں۔ لیکن انسانوں کا گوشت کھانا ان کا شیوہ ہے۔ کوئی بزرگ کوئی ولی کوئی ریفار مرایسا نہیں گزرا جس پر ذاتی طور سے گند اور خبیث کا الزام انہوں نے نہ لگایا ہو اور جسے ہر قسم کی ناپاکیوں میں ملوث نہ قرار دیا ہو ۔ مسلمان ان کے ہم وطن ہیں۔ ان کے ماتحت مدتوں تک آرام و چین سے یہ لوگ زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔ ان کی حکومتوں میں بڑے بڑے عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ اور بڑی سے بڑی ذمہ داریوں کے کام ان کے سپرد رہے ہیں لیکن پھر ان کے اس قدر احسانوں کے باوجود جو سلوک اہل ہنود کا مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ وہ ہر کس و ناکس پر ظاہر ہے۔ خیر مسلمانوں کی سلطنت تو گزر چکی تھی۔ اب اس زمانہ میں انگریزی گورنمنٹ کے ماتحت ہندو مسلمان کسی مسکھ اور چین سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہمارے فائدے کے لئے انگریز کیا کیا منتیں برداشت کرتے ہیں اور کس کس طرح کی کاوشوں سے ہمارے فائدہ کی صورتیں نکالتے ہیں لیکن باوجود اس احسان کے چند سال سے اہل ہنود میں سے ایک معتدبہ گروہ ان کا دشمن ہو رہا ہے۔ اور احسان کے بدلہ ان کی جانوں کے درپے ہو رہا ہے۔ تنزل کے طور پر مان بھی لیں کہ گورنمنٹ نے بعض ہمارے حقوق دیبالئے ہیں تو کیا محسنوں کی بعض غلطیوں پر چشم پوشی نہیں کیا کرتے ۔ کیا احسان کی قدر اسی طرح کی جاتی ہے کہ جب تک محسن کچھ دیتا رہا آرام سے رہے اور ذرا اس سے غلطی ہوئی تو دست و گریبان ہو گئے اور اس کے قتل تک سے باز نہ آئے۔ جو قوم حیوانوں کے گوشت کھانے پر ناراض ہے اسے کم سے کم انسانوں کے گوشت کھانے سے تو پر ہیز کرنا چاہئے تھا مگر افسوس کہ آریہ حیوانوں کے لئے تو اس قدر چیختے اور چلاتے ہیں مگر انسانوں کی ہمدردی ان میں نام کو باقی نہیں۔ ہر ایک فرقہ اور گروہ ان کے ہاتھوں سے نالاں ہے۔ اس لئے نہیں کہ ان کی وجہ سے کسی مذہب کو خطرہ ہے بلکہ اس لئے کہ ان کے وجود سے خود تہذیب کے وجود کو خطرہ لگا ہوا ہے اور ممکن ہے کہ ان کے ہاتھوں ہندوستان کی اخلاقی حالت بہت ہی نیچے گر جائے ۔