انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 344

طالب حق - اگر آپ اردو یا عربی میں اس کے لئے کوئی اور لفظ تجویز نہیں کر سکتے تو انگریزی میں ہی سہی۔پادری صاحب - انگریزی میں ہم اس کے لئے پر سونیلیٹی (Personality استعمال کرتے ہیں طالب حق - میں نے ایک امریکن پادری سے دریافت کیا تھا تو انہوں نے اس کے معنے کیپیسٹی کے بتائے تھے (Capacity)۔پادری صاحب۔نہیں نہیں۔اس کےمعنے پر سونیلیٹی کے ہیں۔طالب حق۔مجھے تو نہ اقنوم کے معنے سمجھ آتے ہیں اور نہ پر سونیلیٹی کے۔میں تو آپ سےکھول کر پوچھنا چاہتا ہوں۔آپ یہ فرمایئے کہ یہ تینوں کیا حیثیت رکھتے ہیں مثلا ًیہی کہ دنیا کا خالق کون ہے۔پادری صاحب۔آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محبت ہے، اس میں محبت کا مادہ ہے وہ چاہتاہے کہ کسی چیز سے محبت کرے اور یہ تمام دنیا کی چیزیں فانی ہیں۔اصلی نہیں ہیں اس لئے ضروری تھا کہ ایک ایسا وجود ہوتا کہ جس سے خدا محبت کرتا۔سو اس لئے بیٹے کی ضرورت تھی اور اس کو تو آپ بھی مانتے ہوں گے کہ اگر کوئی ایساوجود نہ ہو کہ جس سے ندامت کرے تو وہ محبت فضول جائے گی۔طالب حق -پادری صاحب آپ نے بہت ہی معقول بات فرمائی ہے لیکن میں اس وقت تثلیث کو سمجھنا چاہتا ہوں نہ کہ تثلیث کی ضرورت کو میرا سوال تو یہ تھا کہ یہ دنیا کس طرح پیداہوئی اور کس نے کی۔پادری صاحب۔کلمے سے پیدا ہوئی۔خدا نے کی۔طالب حق۔کلمہ دنیابن گیا۔اور یہ دنیا ای کاحصہ ہے باخدا نے حکم دیا۔اور وہ ہوگئی۔پادری صاحب - مسکرا کر او ہو ہمارا یہ خیال نہیں ہے کہ دنیا نیست سے پیدا ہوئی۔یہ آریوں کا خیال ہے مجھ سے ایک دفعہ ایک آریہ ملا تھا۔اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ دنیا کس طرح پیدا ہو کی نیست سے ہست کس طرح ہوسکتا ہے۔میں نے اسے جواب دیا کہ ہمارا ہرگز یہ مذہب *سونیلیٹی کے معنی ذات اقنوم کے معنی اصل ناظرین غور فرما دیں۔*حیثیت