انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 343

حسب معمول مختلف واقعات پر گفتگو شروع کی۔اور انگلستان کی موجودہ حالت پر باتیں ہوتی رہیں۔اسی دوران میں معلوم ہوا کہ پادری صاحب ۳۵ سال سے کام کر رہے ہیں۔اور گجرات وزیر آبادسیالکوٹ میں مدت مدید تک آپ نے مشن کی خدمات کی ہیں۔اور آجکل ایک سال سے پونہ میں ہیں۔ان پادری صاحب کا نام لیگسن ہے۔چونکہ ہمارے رسالہ کے بہت سے ناظرین کوجو سیالکوٹ گجرات اور وزیر آباد سے تعلق رکھتے ہیں آپ سے واقف ہوں گے جیسا کہ ہم نے باہر سنا تھا ہم نے عند الملا قات پادری صاحب کو بہت ہی خلیق اور نرم پایا۔اور ادھر ادھر کی گفتگو کے بعد پادری صاحب نے گفتگو کارخ مسیحیت کی طرف پھیرا اور چاہتے تھےکہ مسیحیت کے متعلق طول طویل تفصیلات میں ہم کو لے جائیں۔اور جو احسانات مسحیت نےیورپ پر کئے ہیں ہمارے سامنے بیان کریں۔لیکن چونکہ وقت کم اور فرصت قلیل تھی میں نےعرض کی کہ ہم سردست تثلیث کے متعلق کچھ پوچھنا چاہتے ہیں جس کی پادری صاحب نے بڑی خوشی سے اجازت دی۔یہ گفتگو گو کہ دو گھنٹے تک رہی لیکن جہاں تک محفوظ رہ سکی اسے ہم یہاں درج کرتے ہیں اورجس طرح سوال و جواب کے پیرایہ میں ہوئی اسی طرح لکھتے ہیں چونکہ میں نے جاتے ہی پادری صاحب سے عرض کر دیا تھا کہ میں آپ سے جو گفتگو کروں اور طالب حجت ہونے کی حیثیت سےکروں گا نہ کسی مذہب کے پیرو ہونے کی حیثیت سے ، اس لئے میں مندرجہ ذیل گفتگو میں اپنے نام کی جگہ طالب حق کا لفظ استعمال کروں گا۔طالب حق -پادری صاحب آپکا تثلیث کے متعلق کیا خیال ہے ؟ پادری صاحب۔میرا خیال ہے کہ تثلیث تین اقنوم کا نام ہے ایک اقنوم د اباپ ،ایک اقنوم مسیح بیٹا اور ایک روح القدس اور میں ان تینوں کی خدائی کا قائل ہوں۔طالب حق -پادری صاحب آپ کی اقنوم سے کیا مراد ہے۔پادری صاحب مسکراکر اقنوم آپ ہی کی زبان کا لفظ ہے۔طالب حق۔بیشک ہماری زبان کا لفظ ہے لیکن ہم خدا تعالیٰ کی نسبت اس لفظ کا استعمال نہیں کرتے۔اس لئے جب خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ استعمال ہو تو ہمیں اس کے معنے سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔پادری صاحب۔میں تو اور اس کے لئے کوئی لفظ تجویز نہیں کر سکتا۔