انوارالعلوم (جلد 1) — Page 341
انوار العلوم جلد 1 بسم اللہ الرحمن الرحیم ۳۴۱ پیازی و خط نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم پہاڑی وعظ انسان کو اپنی عمر میں کئی ایسے واقعات پیش آتے ہیں جنکو اگر محفوظ رکھا جائے اور تحریر میں لایا جائے تو نہ صرف اس کے لئے بلکہ بہت سے اور لوگوں کے لئے مفید و با برکت ثابت ہوں۔ بعض دفعہ ایک چھوٹی سی بات بڑے بڑے نتائج پیدا کرتی اور ایسے ایسے ثمرات اس سے نکلتے ہیں کہ جو سننے والے کے لئے خضر راہ ہو جاتے ہیں مسیحیوں میں پہاڑی وعظ ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا پر مغز اور پر معارف وعظ سمجھا جاتا ہے کہ جس کے مقابل میں دنیا کی کوئی تحریر اور نوشتہ نہیں ٹھہر سکتا۔ اور وہ انیس سو (۱۹۰۰) سال سے اب تک اسے پڑھتے ہیں اور اس کی لطافت اور نزاکت پر سر دھنتے ہیں۔ مسیح نے نہ معلوم کن جذبات اور کن خیالات کے ماتحت وہ الفاظ کہے ہونگے ۔ مگر مسیحیوں کے نزدیک آئندہ آنے والے خطرناک اور مہیب راستوں میں اور قبر کے اندھیروں اور حشر و نشر کے تشویش افزا میدان میں وہ ایک ایسا دوست اور رہنما ہے کہ جس پر عمل کر کے انسان ہر قسم کے وکھوں اور مصیبتوں سے بچ سکتا ہے ۔ مجھے بھی پچھلے دنوں پھاڑ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اور وہاں پنجاب کے ایک مشہور و معروف پادری صاحب سے ہمکلامی کا موقعہ ملا۔ چونکہ وہ گفتگو جو میرے اور پادری صاحب کے درمیان ہوئی میرے خیال میں میں صراط صراط مستقیم کے متلاشیوں کے لئے کسی صورت میں پہاڑی وعظ دع سے کم نہیں اور چونکہ احد المتکلمین ایک مسیحی صاحب ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں بھی اس گفتگو کا نام پہاڑی وعظ ہی رکھوں امید ہے کہ پادری صاحبان مندرجہ بالا وجوہات پر غور کرتے ہوئے اس پر اظہار نا پسندیدگی نہ فرمائیں گے۔ عصر کے بعد حسب معمول میں اور میرے دوست ڈلہوزی سے بیلون کی طرف سیر کے لئے