انوارالعلوم (جلد 1) — Page 336
انوار العلوم جلد 1 ۳۳۶ من انصاری الی الله تک زندہ رہوں گاپس ہر ایک انسان کا فرض ہے کہ وہ کل کے آنے سے پہلے ہی اپنے خیالات کا دنیا پر اظہار کرے اور موٹی سے جو کچھ ہدایت پائی اس کو لوگوں پر پیش کرے پھر جس کا دل چاہے مانے اور جو چاہے انکار کر دے ۔ حضرت مسیح نے اس تبلیغ کے کام کے لئے اپنے حواریوں کو کہا تھا کہ من أَنْصَارِی إِلَی اللہ آج میں بھی حضرت مسیح کے تتبع کے طور پر اپنے دوستوں کے آگے یہی کلمہ دہراتا ہوں کہ اپنی کمر ہمت باندھ کر میرے ساتھ اس کام میں شامل ہو اور جہاں تک ہو سکے اس کام کو کرو تا خدا تعالی کی درگاہ سے انعام کے مستحق ہو یہ سلسلہ تو ضرور پھیلے گا ہی لیکن ہم نے ستی دکھائی تو ہم انصار کیونکر بنیں گے لیکن چونکہ یہ بڑا عظیم الشان کام ہے اس لئے میں یہ شرط لگانی پسند کرتا ہوں کہ جس نے اس کام میں حصہ لینا ہو وہ پہلے سات دفعہ استخارہ کرے تا اللہ تعالیٰ اس کے کام کا ذمہ دار ہو جاوے اور اگر سات دفعہ استخارہ کرنے کے بعد اس کے دل کو اللہ تعالیٰ اس طرف جھکا دے تو پھر شوق سے اس انجمن میں داخل ہو چنانچہ میں نے بھی اس اعلان کے پہلے خود کئی دفعہ استخارہ کیا اور نہ صرف خود ہی کیا۔ بلکہ کئی ایک نیک اور صالح دوستوں سے بھی استخارہ کروایا اور کئی ایک دوستوں کو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارات بھی ہو ئیں تب جا کر یہ کام میں نے شروع کیا اور استخارہ کرنے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح سے بھی اجازت لی۔ چنانچہ اس انجمن کے وہ قواعد جس کی پابندی ہر ایک ممبر کو لازمی ہوگی وہ بھی حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور پیش کر کے اجازت حاصل کر لی گئی ہے وہ قواعد یہ ہیں ۔ (1) اس مجلس کے ہر ایک ممبر کا فرض ہو گا کہ حتی الوسع تبلیغ کے کام میں لگا رہے اور جب موقعہ ملے اس کام میں اپنا وقت صرف کرے جو اپنے گاؤں یا شہروں میں کر سکیں وہاں کریں جنہیں زیادہ موقعہ ملے اور علاقہ میں بھی۔ رہے۔ (۲) ہر ایک ممبر کا فرض ہو گا کہ قرآن شریف اور حدیث کے پڑھنے اور پڑھانے میں کوشاں (۳) ہر ایک ممبر کا فرض ہو گا کہ سلسلہ احمدیہ کے افراد کی آپس میں صلح اور اتحاد پیدا کرنے میں کوشاں رہے اور لڑائی اور جھگڑوں سے بچے۔ خصوصاً جبکہ آپس میں کوئی جھگڑا ہو تو خود فیصلہ کرلیں در نہ حضرت خلیفۃ المسیح سے دریافت کر لیں۔ (۴) ہر ایک قسم کی بد طنیوں سے بچے جو اتحاد اور اتفاق کو کاٹتی ہیں۔ (۵) ہر ماہ کے آخر میں وہ مجھے یا جس کو اللہ تعالیٰ اس کام پر مقرر کرے اطلاع دیں کہ انہوں