انوارالعلوم (جلد 1) — Page 335
انوار العلوم جلد 1 ۳۳۵ من انصاری الی الله مسافر کو تھکا کر چور کر دے گا اور جنت کے دروازہ پر پہنچنے سے پہلے ہی اس کی ہڈیاں توڑ دے گا۔ لیکن خدمت دین ہی ایک ایسی سواری ہے جو ہر وقت اسے بہشت بریں کی طرف اڑائے لئے جا رہی ہے۔ کتنے دل ہیں کہ جو اپنے بھائیوں کیلئے غمگین ہیں اور کتنی آنکھیں ہیں جو دنیا کی گمراہی کو دیکھ کر چشم پر آب ہیں ۔ ہاں کتنے جگر دین کی پراگندگی پر چاک چاک ہو رہے ہیں اور کن کن کے گریبان ایسے پھٹے ہیں کہ وہ بس سئے ہی نہیں جاتے۔ ہمارے ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں بھائی ہیں کہ جنھوں نے خدا کو بھی نہیں پہچانا جو ملائکہ کے منکر ہیں جو کتب سماوی کے قائل نہیں جو رسولوں پر ٹھٹھا کرتے ہیں جن کے زمانہ میں خدا کا ایک مأمور آیا لیکن انہوں نے اس کی قدر نہ کی اور اپنی آنکھوں سے غفلت کی پٹی اتار کر اسے نہیں دیکھا۔ ہم نے ان کے لئے کیا کیا اور ان تک اس مجدد دین کے پاک و شیریں کلمات کے پہنچانے میں کس قدر کوشش کی۔ کیا تم نے سنا نہیں کہ خفته را خفته کی کند بیدار جب ہم خود ہی سوتے رہے اور دنیا کی جھوٹی چمک اور یورپ کی فریب دہ جلوه آرائیوں آر پر مرتے رہے ۔ تو غیر کو جگانے سے سے پہلے پہلے بہتر بہتر ہے ہے کہ اپنے آپ کو جگائیں اور دوسرے کی آنکھوں سے جہل کی پٹی اتارنے سے پہلے اپنی ہی آنکھوں کا فکر کریں۔ ملائکہ اس کام میں لگے ہوئے ہیں پس بہتر ہے کہ ہم بھی لہو لگا کر شہیدوں میں مل جائیں ۔ کام تو اللہ ہی نے کرنا ہے ہماری تو کوششیں ہی ہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ کوشش کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے ۔ ہمارا کچھ نہیں سب کچھ اس درگہ سے ملتا ہے یه بلا حکم خدا کب ایک تنکا تک بھی ہلتا ہے امت سمجھو کہ ہم اس کام کے لائق نہیں اگر ہمت و استقلال ہو اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہو تو پھر وہ خود ہی قرآن و حدیث کا علم سکھلا دیتا ہے حضرت اقدس فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک رات میں کئی ہزار عربی الفاظ کا مادہ سکھلا دیا گیا تھا۔ پس خدا کے خزانے وسیع ہیں کمر ہمت کو چست کرو اور دنیا کو کھول کر سنا دو کہ ” دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا مگر خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا "۔ اسلام کا سورج گہن کے نیچے ہے۔ خدا کے حضور میں تڑپو آہ وزاری کرد تا ده گهن دور ہو اور دنیا خدا تعالیٰ کا چہرہ دیکھے اور قرآن اور رسول کریم اللہ کی عظمت اس پر ظاہر ہو اور حضرت مسیح موعود کی سچائی سے صاف آگاہ ہو ۔ دھوکے کو چھوڑ دو اور صاف صاف الفاظ میں دنیا پر وہ سچائیاں ظاہر کرو جو خدا نے تم کو دی ہیں تا قیامت کے دن سبکدوش ہو کہ ہم نے اپنی طرف سے تبلیغ کر دی تھی۔ کون جانتا ہے کہ میں کل