انوارالعلوم (جلد 1) — Page 334
انوار العلوم جلد 1 ۳۳۳ من انصاری الی الله ہے جو چند دنوں تک ہی تیار ہو جائے گا۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ احمدی احباب خصوصاً جن علاقوں میں طاعون کا زور ہو اس اشتہار کی کثرت سے اشاعت کریں گے اور جن کے دل میں اللہ تعالیٰ یہ تحریک پیدا کرے وہ مجھ سے اشتہار طلب کریں جو فورا ان کی خدمت میں بھیج دیا جائے گا۔ دوسری تحریک جو اللہ تعالٰی نے میرے دل میں ڈالی ہے کہ ایک انجمن قائم کی جائے جس کے ممبران خصوصیت سے قرآن و حدیث اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تبلیغ کی طرف توجہ رکھیں اور افراد جماعت میں صلح و آشتی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے ممبران اپنے دنیاوی کام کرتے ہوئے بھی پنے آپ کو دین کے لئے وقف کر دیں یعنی ہر ایک موقعہ سے جو تبلیغ حق کا ملے فائدہ اٹھا ئیں اور گویا اس فکر میں اپنے اوپر آرام و چین حرام کر دیں پس اس لئے میں اس اعلان کے ذریعہ سے ہر ایک اس روح کو جو اپنے اندر حق کے پہنچانے کا جوش رکھتی ہے بلاتا ہوں کہ وہ اس کام میں مدد دے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی امیدوار ہو ۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء تو پورا ہو کر رہے گا یہ ایک موقعہ ہے کہ جو ہم کو دیا گیا ہے جس نے ایک مامور کو دنیا کی ہدایت اور روشنی کے لئے بھیجادہ اس کے نور کو اور ہدایت کو دنیا میں پھیلائے گا۔ کیا دنیا با وجود ایک مأمور من اللہ کے آنے کے تاریک ہی رہے گی ؟ ہرگز نہیں ایسا ہرگز نہیں ہو گا خدا تعالیٰ کی باتیں ٹلا نہیں کرتیں ۔ باقی مبارک وہ جو اللہ تعالیٰ کے ارادوں میں اپنے ارادوں کو شامل کر دیتا ہے اور جیتے جی اپنے مولا کی راہ میں اپنی خواہشوں اور امنگوں پر موت وارد کر لیتا ہے۔ یہ شخص ہے جو حقیقی زندگی بسر کرتا ہے اور اس کی حیات کچی حیات ہے۔ ورنہ وہ انسان جو باوجود اشرف المخلوقات ہونے کے سگ دنیا بن کر طمع و حرص نے مردار پر گرتا ہے اور اپنے ہمسایہ اور پڑوسی سے لڑ اور جھگڑ کر اپنی زندگی بسر کرتا ہے اس کی زندگی ہی کیا اور اس کے جینے کا فائدہ ہی کیا۔ بہتر ہوتا کہ وہ پیدا ہی نہ ہوتا اور وہ دن دور نہیں جب کہ اسے کہنا پڑے گا کہ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا۔ پس مت سمجھو کہ دنیا کی ترقیوں اور مال و جلال کے بڑھانے سے تم اپنے اصلی مقصد کو پہنچ گئے بلکہ جب تک اپنے بھائی کی فکر نہ کرو اور دین کی فکر تمہیں سوہان جان ہو کر نہ لگے تم نے اپنی عمر ضائع کر دی اور قیمتی وقت بیہودہ باتوں میں کھو دیا ۔ کاش تم اتنا سمجھتے کہ جس مسافر نے دور جانا ہو اور لمبی منزل طے کرنی ہو وہ جس قدر ممکن ہو بوجھ کو ہلکا کرتا ہے اور فضول اور زائد چیزوں کو نہیں اٹھاتا۔ پس کیا افسوس ہے اس پر جس نے نہ معلوم کیسے دشوار گزار راستوں سے گزر کر میدان حشر میں پہنچنا ہے اور ہر وقت اس فکر میں ہے کہ جو کچھ بھی ملے وہ اپنے کندھے پر اٹھالوں۔ دنیا کی آسائشیں اور عیش و عشرت کی زندگی ایک بوجھ ہے جو اس