انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 316

انوار العلوم جلد 1 ۳۱۶ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے سے منہ پھیرتے ہیں ان کو راستباز قرار دینا اسی شخص کا کام ہے جس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے "۔ اب اس عبارت سے مفصلہ ذیل باتیں نکلتی ہیں اول تو یہ کہ حضرت صاحب کو اس بات کا الہام ہوا ہے کہ جس کو آپ کی دعوت پہنچی اور اس نے آپ کو قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں دو سرے یہ کہ اس الزام کے نیچے وہی لوگ نہیں ہیں کہ جنہوں نے تکفیر میں جد وجہد کی ہے بلکہ ہر ایک شخص جس نے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اور تیسرے یہ کہ وہ خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے اور سزا کا مستحق ہے چوتھے یہ کہ اس عقیدہ کی وجہ سے کہ حضرت صاحب کے منکر کافر نہیں بلکہ ناجی ہیں عبدالحکیم مرتد کو آپ نے جب تک وہ اس عقیدہ سے توبہ نہ کرے جماعت سے خارج کر دیا۔ پانچویں یہ کہ آپ فرماتے ہیں کہ یہ عقیدہ خبیث ہے۔ چھٹے یہ کہ جو شخص حضرت صاحب کے منکرین کو اور آپ کے دعاوی کے نہ ماننے والے کو راستباز قرار دیتا ہے اس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے۔ یہ باتیں میں نے اپنے پاس سے نہیں بنائیں بلکہ حضرت کے لفظ ہیں جو نقل کئے گئے ہیں جو چاہے قبول کرے اور چاہے تو رڈ کر دے ۔ اس عبارت میں جو آتا ہے کہ یہ بات مجھے الہام سے بتائی گئی ہے اس کی تائید ان الہامات سے بھی ہوتی ہے جن میں کہ منکرین حضرت کو کافر کہا گیا ہے - قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ قُلْ عِنْدِى شَهَادَةً مِّنَ اللهِ فَهَلْ أَنتُمْ مُؤْمِنُوْنَ قُلْ عِنْدِي شَهَادَةً مِّنَ اللَّهِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ وَقُلِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلَ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ عَسَى رَبُّكُمْ انْ يَرْحَمَكُمْ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِينَ حَصِيرًا يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُوْرَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ اللهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ قُلْ جَاءَ كُمْ نُورٌ مِّنَ اللَّهِ فَلَا تَكْفُرُوا إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ رَدَّ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ شَكَرَ اللهُ سَعْيَةَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكُفَّارُ إِنِّي مِنَ الصُّدِقِيْنَ وَ عِنْدِي شَهَادَةً مِّنَ اللَّهِ وَ إِنِّي أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ لَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا غرض جیسا کہ حضرت صاحب نے مذکورہ بالا عبارت میں فرمایا ہے کہ مجھے الہام سے بتایا گیا ہے کہ تیرے نہ ماننے والے خواہ کفر ہوں یا خاموش۔ مسلمان نہیں ہیں اور خدا کے حضور سزا کے مستحق ہیں اور یہ کہ ان کو راستباز جاننے والا شیطانی خیال کے درپے ہے جب تک تو بہ نہ کرلے ۔ ان باتوں کی تصدیق مذکورہ بالا الہامات سے بھی ہوتی ہے ۔ ( تذکرہ )