انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 314

انوار العلوم جلد 1 ۳۱۴ مسلمان رہی ہے جو سب ماموروں کو مانے سکتا۔ پھر ہمارے مخالف کیوں بار بار ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں وہ زمانہ یاد کریں جبکہ کفر کی بوچھاڑ ہم پر پڑتی تھی۔ اور ملامت کے تیروں سے ہمارا بدن زخمی کیا جاتا تھا اور تمام لوگوں کی آنکھیں اس طرف لگی ہوئی تھیں کہ کب یہ سلسلہ تباہ ہوتا ہے اور ایسے وقت میں خدا نے ہماری تائید کی اور ہر ایک دکھ اور درد سے ہم کو بچایا اور ہر ایک شر سے ہم کو محفوظ رکھا تو ہم کیسے ناشکر گزار ہوں گے کہ جب خدا نے ہم کو ہر مصیبت سے بچا کر امن کی زندگی عطا فرمائی تو ہم کو اس وقت یہ نہیں چاہئے کہ لَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ (ہود: ۱۱۲۴) کی نمی کو نعوذ باللہ کہیں پس پشت ڈال دیں۔ ہاں سوچو تو سہی کہ جس کے باپ کو کوئی جھوٹا سمجھتا اور مفتری خیال کرتا ہے تو وہ اس سے تعلق توڑ دیتا ہے اور اس سے دوستی اور محبت پیدا نہیں کر سکتا پس ہم کس طرح ان لوگوں سے جو ہمارے والد سے زیادہ معزز اور محبوب انسان کی ہتک کریں اور اسے جھوٹا خیال کریں صلح کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم ایسا خیال کریں تو ہم سے زیادہ بے شرم کون ہو سکتا ہے اسلام نے دنیا کے معاملات میں تعصب اور مخالفت کو ناجائز قرار دیا ہے پس ہم جہاں تک دنیا کا تعلق ہے ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کر سکتے ہیں۔ لیکن دین کے معاملہ میں یہ اور راہ پر قدم زن ہیں اور ہم اور راہ پر اور یہ ایسا ہی معاملہ ہے جیسا کوئی شخص مسلمان ہو کر اپنے والدین سے ہر قسم کا سلوک کرتا ہے اور شرعاً اس کی ممانعت نہیں بلکہ حکم ہے۔ لیکن ان کے پیچھے نمازیں پڑھنے میں ہم کو تاتل ہے اور اس کے ذمہ دار خود یہی لوگ ہیں۔ کفر کی ابتداء انہوں نے کی نہ ہم نے ۔ اول اول تو خدا نے رحم کیا اور کوئی حکم نہ دیا لیکن جب مخالفت حد سے بڑھ گئی تو خدا نے چاہا کہ ان کو اس فیض سے محروم کر دے جو ان کو اس مأمور من اللہ سے برائے نام تعلق کی وجہ سے تھا اور اس نے فیصلہ کر دیا کہ اب ان لوگوں سے تمہارا کوئی تعلق نہیں تو اب کسی طرح ممکن ہے کہ ہم خد اتعالیٰ کے فیصلہ کو تو ڑکر ان سے مل جائیں ۔ اور ہمارے مخالف اپنے دل میں اتنا تو کیا مأمور من اللہ غلطی خوردہ ہو سکتا ہے ؟ سوچیں کہ جب وہ حضرت مسیح موعود کو راستباز مانتے ہیں تو کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر وہ جھوٹ بولتے رہے ہیں اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں ہم ان کو جھوٹا نہیں بلکہ غلطی خوردہ جانتے ہیں وہ الہام کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں اور در حقیقت اس کے منکر ہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص روز اس بات کا مدعی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام کیا اور کہا کہ تو مامور ہے اور مرسل ہے اور