انوارالعلوم (جلد 1) — Page 313
گے اور آپ کی محبت اور فرمانبرداری کوذریعہ نجات یقین کریں گے۔کیا یہ زیادہ معزز درجہ ہے یاوه جو ہمارے مخالف پیش کرتے ہیں۔پس ہم اسی اصل کے ماتحت حضرت مسیح موعوردؑ کو بموجب احادیث صحیح نبی اور مامور مانتے ہیں اور اس اعتقاد سے رسول اللہﷺ کی شان میں فرق نہیں آتا بلکہ اور بھی اعلیٰ ثابت ہوتی ہے۔منکرین کی ذلتاور ہمارا ایمان ہے کہ جیسے اور انبیاء کے منکرین اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے بعیدکیے جاتے تھے آپ ؑکے منکرین کا بھی یہی حال ہے اور اس کا نمونہ ہم نےاپنی آنکھوں سے دیکھا ہے پسں کیسے تعجب کی بات ہوگی اگر ہم باوجود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنےکے پھر اس بات سے انکار کریں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے مخالفین کو سخت ذلت دی ہے اور دنیاوی عزت کو دیکھ کر ہماری آنکھیں چند ھیا جائیں۔ہمیں وہ وقتیں اور مشکلات پیش نہیں آئیں جوصحابہ ؓکو پیش آئیں تھیں۔پھر ہماری بزدلی کیا ایمان کی کمزوری پر دال نہ ہو گی ؟ ہم یہ کب کہتے ہیں کہ ہمارے مخالف کا فر باللہ ہیں۔لیکن اس میں کیا شک ہے کہ وہ كا فريالمأمور ہیں کافر کے معنی منکرکے ہیں۔پس یہ کیسا جھوٹ ہے کہ اگر ہم با وجود ان کے انکار کے پھر ان کو مؤمن کا مومن ہی سمجھیں۔مؤمن تو وہ تب ہو سکتے ہیں کہ جب اپنے عقائد باطلہ سے رجوع کریں اور حضرت مسیحؑ کےخلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کریں جو حقیقت میں منکر ہے اسے ہم مومن کیونکر کہہ سکتے ہیں۔پس جو لوگ کہ باوجود ہزاروں نشانوں کے دیکھنے کے انکار کرتے ہیں ان کے کافر بالمأمور ہونے میں کوئی شک نہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے احکام کی ایک ذرہ بھر بھی عزت نہیں کرتے؟ کیونکہ اگر وہ خوف خدارکھتے اور ان کے دل میں نور ایمان ہو تا تو وہ ایک مأمور کی بے قدری اس قد ر کیوں کرتے۔مو عود ذہنیتعجب ہے کہ یہ لوگ اس مو عود ذہنی کو تو اس قدر درجہ دیتے ہیں کہ اس کے منکر کافر ہوں گے اور جو اس کی مخالفت کرے گا۔و ہ دجّال ہو گا اور ہلاک کیا جائے گا پھراب حضرت مسیح موعودؑ اس بات کے مد عی ہیں کہ میں وہی ہوں۔تو پھر آپ کی مخالفت کے باوجودہم سے کسی اور فتوے کے کیوں امیدوار ہیں جو کچھ اس آنے والے موعود کے مخالفین کی نسبت ان کا خیال ہے ہم تو اس سے ان لوگوں کو کم ہی جانتے ہیں۔صلح کا ہونا ممکن نہیںحضرت صاحب کے زمانہ میں بھی بار بار اس مسئلے کو اٹھایا گیا ہے اور ہمیشہ آپ ؑ نے اس کو خوب واضح کر کے بیان کیا ہے اور ایسا کھول دیاہے کہ اس کا انکار سوائے اس کے کہ کوئی ان فتووں کو نظرانداز کردے اور کسی طرح سے نہیں ہو