انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 312

انوار العلوم جلد ! ۳۱۲ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے کرتا تو سب سے پہلے غیر احمدیوں کی عظیم الشان جماعت میں ملنے کی کوشش کرتا اور یہ تو ظاہر ہے کہ اس طرح حضرت صاحب کو جو گالیاں دی جاتی ہیں وہ کم ہو جاتیں۔ اور کون نہیں چاہتا کہ اس کے باپ کو لوگ گالیاں نہ دیں اور اس کے والد کی نسبت نخش الفاظ استعمال نہ کئے جائیں۔ پس اگر آپ لوگ ان کو پیر سمجھ کر دشمنوں کے حملہ سے بچانا چاہتے ہیں تو میرے ان سے دو رشتے ہیں۔ وہ میرے والد بھی ہیں اور آتا اور پیر بھی لیکن میں نفاق پر موت کو ترجیح دیتا ہوں اور اس وقت سے پناہ مانگتا ہوں جب میں وہ بات کروں جو میرے دل میں نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کی اس معاملہ میں نصرت چاہتا ہوں اور میں اس سے مدد مانگتا ہوں۔ کہ وہ مجھے گناہوں میں پڑنے سے بچائے۔ میں جانتا ہوں کہ کوئی مجھے گناہوں کی بھٹی سے نہیں بچا سکتا مگر اللہ اور مجھے کامل یقین ہے کہ مَنْ يَهْدِي الله فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ پس اس سے ہر قسم کی شرارت نفس اور خبث باطن سے پناہ مانگتے ہوئے میں نے اس کام کو کیا ہے اور میں اس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے ضرور بچائے گا اور ہر قسم کے ابتلاؤں سے محفوظ رکھے گا۔ غرضیکہ اے عزیزو ! ہمارا ایمان ہے کہ حضرت صاحب خدا کے مرسل تھے اور مأمور من اللہ تھے اور ہمار ا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء ہمیشہ بھیجتا رہتا ہے اور نہ معلوم اور کتنے انبیاء آگے بھیجے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہمارا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم محمد رؤوف رحیم رسول اللہ خاتم النبیین کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آئے گا اور آپ ہر قسم کی نبوتوں کے خاتم ہیں اور آئندہ جس کو اللہ تعالی تک رسوخ ہو گا وہ آپ ہی کی اطاعت کے دروازہ سے گزر کر ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَا تَبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ ( آل عمران : ۳۲) او رای میں آپ کی عزت ہے۔ کیونکہ کیا وہ شخص معزز کہلا سکتا ہے جس کے ماتحت کوئی بھی افسر نہ ہو۔ بلکہ معزز وہی ہوتا ہے جس کے ماتحت بہت سے افسر ہوں۔ دنیا میں ہی دیکھ لو کہ تم بادشاہ کے لقب کو زیادہ معزز جانتے ہو یا شہنشاہ کے لقب کو ۔ پس شہنشاہ کا لفظ اس لئے کہ اس میں بادشاہوں پر حکومت کا مفہوم پایا جاتا ہے بادشاہ پر معزز ہے ادنیٰ نہیں ۔ اسی طرح ایسی نبوت جس کے ماتحت اور نبوتیں بھی ہوں اس نبوت سے اعلیٰ اور افضل ہے جس کے ماتحت اور نبوت کوئی نہ ہو ۔ کیا وہ شخص زیادہ معزز ہو گا جو دربار شاہی تک انسان کو پہنچا دے یا جو دروازہ پر ہی لے جا کر چھوڑ دے۔ پس ہمارا یقین ہے کہ محمد رسول اللہ اللہ اپنی امت میں سے لوگوں کو اٹھا کر اعلیٰ مقامات پر پہنچا دیتے ہیں اور آپ کے ماتحت ہزاروں نبی ہوں گے ۔ جو آپ کے ایک ایک لفظ کو قابل اطاعت جائیں