انوارالعلوم (جلد 1) — Page 4
انوار العلوم جلد 1 چشمه توحید تعالی نے آزادی دی ہے آج تک اس مرض کو اپنے دل میں چھپاتا رہا ہے۔ گو بہتوں نے ہدایت پائی اور شہداء اور صدیقین کا مرتبہ پایا مگر پھر بھی دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسی رہی ہے جنہوں نے شرک کو نہیں چھوڑا ۔ اور جب کہ خدا تعالیٰ ایک قوم کی نبیوں سے روگردانی کرنے کی پہلی وجہ شرک ہے طرف نبی کو بھیج کر اس کی اصلاح کرتا ہے۔ اور وہ ایک مدت کے بعد جب ان تمام انعامات الہی کو جو ان پر وقتا فوقتا ہوئے ہوتے ہیں اپنی کوششوں اور سعیوں پر محمول کر کے خدا تعالیٰ سے روگردانی کرتے ہیں تو اس وقت جو پہلی برائی ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے وہ شرک ہے۔ اس واسطے جو نبی دنیا کی اصلاح کے لئے آتا ہے اس کو سے پہلے شرک کا ہی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اور شیطان کا سب سے بڑا حملہ جو انسان پر ہوتا ہے وہ سب سے شرک ہی ہے۔ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن شریف سے ظاہر ہے کہ خدا مشرک نہیں بخشا جائے گا تعالی دوسرے گناہوں کو اگر چاہے تو بخش دے گا مگر شرک کو نہیں۔ اور ور حقیقت انسان کی کیسی کمزوری اور شرارت ہے کہ وہ خدا جس نے ہمارے لئے طرح طرح کے آسائش کے سامان پیدا کئے ہیں اس سے روگردانی کریں جیسا کہ زمین پیدا کی ہے تاکہ ہم اس پر چلیں پھریں محنت کریں کوشش کریں اور بڑے بڑے مرتبے پائیں۔ پھر اس زمین میں مختلف قسم کی تاثیریں رکھی ہیں وہی زمین ہوتی ہے کہ احسانات الہی کا بیان ہم اس میں کیوں کا دانہ ڈالتے ہیں اور کچھ دنوں تک معدوم ہو جانے کے بعد وہ دانہ تھوڑا سا باہر نکلتا ہے ۔ پھر مختلف زمانوں اور ہو زبانوں اور ہواؤں میں سے سے گزر کر وہ ایک عرصہ کے بعد اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس میں اسی قسم کے سینکڑوں دانے اور نکل آتے ہیں اور انسان کی خوراک کا سامان کرتے ہیں۔ پھر اسی زمین میں مکئی کا دانہ ڈالتے ہیں اور وہ اسی زمین کی تاثیر سے اپنے مطابق اثر حاصل کر کے بڑھتا اور آخر انسان کی غذا کے کام آتا ہے۔ اور مختلف فوائد زمین میں رکھے گئے ہیں کہ جو ہماری زندگی اور آرام اور آسائش کے محافظ ہوتے ہیں۔ پھر پرند چرند بنائے ہیں جن سے سینکڑوں فوائد روزانہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح اربعہ عناصر ۔ پس ذرہ بھر بھی شرک کادل میں رکھنا ایسا خوفناک امر ہے اور ایسی بے حیائی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ رحیم و کریم نہ ہو تا تو قریب تھا کہ انسان ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک ایسے عذاب میں ڈالا جاتا جس سے کبھی نجات نہ ہوتی ۔ مگر یہ