انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 300

انوار العلوم جلد | ٣٠٠ فرعون موسی پس اس لاش پر مجھے سخت تعجب ہے کہ جب اس میں جان تھی تب تو اس نے ہزاروں کو گمراہ کیا ہو گا۔ لیکن روح سے جدا ہو کر اور ہزاروں سال نہ زمین میں رہ کر اس میں کیا کیمیائی اثر پیدا ہو گیا کہ آج یہ لاکھوں کے ازدیاد ایمان کا باعث ہو گئی۔ سب سے بڑھ کر تعجب کی یہ بات ہے کہ اس لاش کو فرعون موسیٰ کی لاش کہنے والے مسلمان نہیں کہ ان پر الزام آسکے کہ انہوں نے قرآن شریف کی ایک آیت درست کرنے کے لئے یہ جھوٹا دعوی کر دیا بلکہ خود مسیحی مؤرخ ہیں اور وہ بڑے زور سے دعوی کرتے ہیں کہ یہ لاش منفتاح ریان با فرعون موسی کی لاش ہے۔ اس بات کا ثبوت کہ یہ لاش واقعی منفتاح کی ہے ایک تو یہ ہے کہ اس لاش کے اوپر کپڑے پر لکھا ہوا تھا کہ یہ منفتاح کی لاش ہے۔ بلکہ اس کی ایک تصویر بھی اوپر دی گئی تھی جو کہ کئی انگریزی اخباروں میں شائع کی گئی ہے اور جس کو ڈھونڈ کر شائع کرنے کی ہم انشاء اللہ کوشش کریں گے تاکہ فرعون موسیٰ کا سال پڑھنے کے بعد ہمارے ناظرین اس کی تصویر کے ذریعہ سے گویا خود اسے ہی دیکھ لیں۔ دوسرا یہ کہ کئی علامتیں اس کے بدن پر ایسی پائی گئی ہیں جو کہ فرعون موسی میں پائی جاتی تھیں مثلاً مسوڑوں کی بیماری کہ اس کا نشان اس لاش میں بھی پایا جاتا ہے ۔ تیسرے اس کی شکل سیتی اول سے جو اس کا دادا تھا ملتی ہے اور اس بات کا ثبوت کہ منفتاح ہی فرعون موسیٰ تھا۔ اول تو یہ ہے کہ اس کا زمانہ حکومت اور بنی اسرائیل کے خروج کا زمانہ ایک ہے پس سوائے اس کے کہ مانا جائے کہ بنی اسرائیل اس کے دوران حکومت میں مصر سے نکلے تھے اور کوئی چارہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل رئیس شہر کی تعمیر کرتے تھے۔ اور رئیس منفتاح کے باپ کا نام تھا۔ پس بہر حال وہ زمانہ منفتاح کے باپ کی حکومت کا تھا چنانچہ لکھا ہے کہ موسیٰ کے وطن چھوڑ دینے کے بعد وہ فرعون مر گیا اور دوسرے فرعون کے عہد میں موئی واپس آئے اور بنی اسرائیل کو طلب کیا۔ پس ضرور ہے کہ اس وقت منفتاح حکمران ہو ۔ تیرے قرآن شریف اور توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرعون کے بعد اس خاندان پر زوال آگیا۔ اور تاریخ سے ثابت ہے کہ فراعنہ کی اس شاخ کا آخری بادشاہ جس کے بعد زوال آگیا وہ منفتاح ہی تھا۔ چوتھے یہ کہ بنی اسرائیل کے بچوں کو دریا میں ڈلوانے والا بادشاہ رئیس ہی تھا۔ پس اس