انوارالعلوم (جلد 1) — Page 299
انوار العلوم جلد 1 ۲۹۹ فرعون موسیٰ نسبت قرآن شریف میں بتایا گیا تھا کہ اس کی لاش بچ گئی ہے اور محفوظ رکھی ہوئی ہے اور یہ کہ ایک زمانہ میں وہ مل بھی جائے گی۔ اور لوگوں کے لئے عبرت کا باعث ہو گی۔ اور اس طرح ایک پیشگوئی میں گویا پانچ باتیں بتائی گئی تھیں۔ اول تو یہ کہ فرعون کی لاش سمندر میں بہہ نہیں گئی بلکہ وہ سلامت باہر پہنچ گئی کیونکہ سمند رہیں ڈوبنے والے کا اکثر تو یہی حال ہوتا ہے۔ کہ یا تو اسے جانور کھا جاتے ہیں اور یادہ دور دراز بہہ جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ بلا کسی قسم کے نقص کے کنارہ پر لگادی گئی تھی۔ دوسری بات یہاں سے یہ معلوم ہوئی کہ اس کو مسالہ بھی لگایا گیا تھا۔ کیونکہ یہ بھی ممکن تھا کہ اسے مسالہ نہ لگایا جاتا۔ جیسا کہ اس فرعون منفتاع کے باپ رعمسیس کی لاش کو مسالہ نہیں لگایا گیا تھا۔ کیونکہ وہ کوڑھ کی وجہ سے بہت گل گیا تھا اور اسی طرح یہ ضروری نہ تھا کہ ہر ایک بادشاہ کی لاش کو مسالہ لگایا جائے۔ پس آیت قرآن شریف کے اس حصہ یعنی لِتَكُونَ مَنْ خَلْفَكَ آيا سے صاف ثابت ہے کہ اسے مسالہ بھی لگایا جائے گا۔ کیونکہ اگر مسالہ نہ لگایا جا تا تو وہ اس وقت تک گل سڑ جاتی ہم تک پہنچتی ہی کیونکر ۔ تیسرے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آخر زمانہ تک محفوظ بھی رہے گی۔ کیونکہ یہ بھی کچھ ضروری نہیں کہ سب مسالہ والی لاشیں آج تک محفوظ رہیں۔ ہزاروں لاکھوں لاشیں تھیں جو مسالہ دار تھیں لیکن ضائع ہو گئیں ۔ کیونکہ ایک زمانہ مصر میں ایسا آیا ہے کہ جو رات کو شمع کی بجائے مسالہ دار لاشوں کے ٹکڑے جلاتے تھے ۔ کیونکہ وہ ایسی عمدہ جلتی ہیں کہ جیسے کافوری شمع اور اور بھی کئی ذریعے ہیں جن سے وہ ضائع ہو سکتی ہیں۔ پس اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو تا تھا کہ وہ لاش ہر قسم کی مملک چیزوں سے بچ کر پچھلے لوگوں تک پہنچ بھی جائے گی۔ چوتھے یہ معلوم ہوا کہ نہ صرف ہ محفوظ رہے گی بلکہ وہ مل بھی جاے گی کیونکہ اگر کس کھوہ یا نمار میں پڑی رہتی تو لوگوں کے لئے کسی نفع کا باعث ہو سکتی تھی۔ پانچویں یہ کہ وہ مل کر پہچانی بھی جائے گی کیونکہ "نشان" تبھی ہو سکتی تھی کہ اگر اس کی شناخت بھی ہو جاتی۔ اگر بالفرض وہ مل بھی جاتی ۔ مگر اس کی شناخت نہ ہوتی ۔ تب بھی اس میں نقص رہ جاتا۔ پس اس ایک آیت میں پانچ آیتیں ہیں جو قرآن شریف کی سچائی کی دلیل ہیں اور مؤمنوں کے لئے ازدیاد ایمان کا باعث ہیں۔