انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 299

نسبت قرآن شریف میں بتایا گیا تھا کہ اس کی لاش کی گئی ہے اور محفوظ رکھی ہوئی ہے اور یہ کہ ایک زمانہ میں وہ مل بھی جائے گی۔اور لوگوں کے لئے عبرت کا باعث ہوگی۔اور اسی طرح ایک پیشگوئی میں گویا اتنی باتیں بتائی گئی تھیں۔اول تو یہ کہ فرعون کی لاش سمندر میں بہہ نہیں گئی بلکہ وہ سلامت باہر پہنچ گئی کیونکہ سمندرمیں ڈوبنے والے کا اکثر تو یہی حال ہو تا ہے۔کہ یا تو اسے جانور کھا جاتے ہیں اور یادہ دور دراز بہہ جا تاہے لیکن اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ بلا کسی قسم کے نقص کے کنارے پر لگادی گئی تھی۔دوسری بات یہاں سے یہ معلوم ہوئی کہ اس کو مسالہ بھی لگایا گیا تھا۔کیونکہ یہ بھی ممکن تھا کہ اسے مسالہ نہ لگایا جا تا۔جیسا کہ اس فرعون منفتاع کے باپ رعمسیس کی لاش کو مسالہ نہیں لگایا گیاتھا۔کیونکہ وہ کوڑھ کی وجہ سے بہت گل گیا تھا اور اسی طرح یہ ضروری نہ تھا کہ ہر ایک بادشاہ کی لاش کو مسالہ لگایا جائے۔پس آیت قرآن شریف کے اس حصہ یعنی لتكون خث خلقت اسےصاف ثابت ہے کہ اسے مسالہ بھی لگایا جائے گا۔کیونکہ اگر مسالہ نہ لگایا جاتا تو اس وقت تک گل سڑ جاتی ہم تک پہنچتی ہی کیونکر - تیسرے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آخر زمانہ تک محفونا بھی رہے گی۔کیونکہ یہ بھی کچھ ضروری نہیں کہ سب مسالہ والی لاشیں آج تک محفوظ رہیں۔ہزاروں لاکھوں لاشیں نہیں جو مسالہ وار تھیں لیکن ضائع ہو گئیں۔کیو نکہ ایک زمانہ مصر میں ایسا آیا ہے کہ جو رات کو شیع کی بجائے مسالہ دارلاشوں کے ٹکڑے جلاتے تھے۔کیونکہ وہ ایسی عمد و جلتی ہیں کہ جیسے کافوری شمع اور اور بھی کئی ذریعےہیں جن سے دو ضائع ہو سکتی ہیں۔پسں اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو تا تھا کہ وہ لاش ہر قسم کی مہلک چیزوں سے بچ کر پچھلے لوگوں تک پہنچ بھی جائے گی۔چوتھے یہ معلوم ہوا کہ نہ صرف وہ محفوظ رہے گی بلکہ وہ مل بھی جائے گی کیونکہ اگر کسی کھوہ یا غار میں پڑی رہتی تو لوگوں کے لئے کسی نفع کا باعث ہو سکتی تھی۔پانچویں یہ کہ وہ مل کر پہچانی بھی جائے گی کیونکہ \"نشان\" تبھی ہو سکتی تھی کہ اگر اس کی شناخت بھی ہو جاتی۔اگر بالفرض وہ مل بھی جاتی۔مگر اس کی شناخت نہ ہوتی۔تب بھی اس میں نقص رہ جاتا۔پس اس ایک آیت میں پانچ آیتیں ہیں جو قرآن شریف کی سچائی کی دلیل ہیں اور مومنوں کےلئے ازدیا وایمان کا باعث ہیں۔