انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 298

انوار العلوم جلد | ۲۹۸ فرعون موسی کچھ خدا تعالیٰ فرمائے اس کے سچا ہونے میں بھی کچھ کلام نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے یہ سامان بنا دیا کہ اس زمانہ میں جبکہ ہر ایک علم کی ترقی ہو رہی ہے ۔ آثار قدیمہ کی تحقیقات کا ہو شوق بھی بہتوں کو لگا ہوا ہے ایسے لوگوں میں سے بعض آدمی مصر کے آثار قدیمہ کی تلاش میں لگے وئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک شخص مسٹر لاریٹ نے مقابر فراعنہ میں ۱۸۹۸ء با ابر فراعنہ میں ۱۸۹۸ء میں ایک بادشاہ کو تابوت میں پڑا پایا ۔ اور جو کچھ اس پر لکھا ہوا تھا اسے پڑھ کر معلوم کیا کہ یہ " خون اتن" بادشاہ کی لاش ہے۔ لیکن چونکہ "ہیر خلیف" خط میں اکثر دھوکا ہو جاتا ہے۔ اس لئے مسٹر جروف کے سامنے اس نے یہ معاملہ پیش کیا جس نے اس لفظ کو ریان با پڑھا۔ دونوں کے تنازعہ کو دور کرنے کے لئے ہیرو کو بلایا گیا۔ اور اس کے ساتھ اور علماء بھی تھے جب انہوں نے وہ حروف دیکھے تو فورا بول اٹھے کہ ” یہ ریان با ہے۔ ریان با موئی کا فرعون تھا۔ “ اس تابوت کو اور کھولا گیا۔ تو اس پر منفتاح بھی لکھا ملا ۔ جو فرعون موسئی کا دوسرا نام تھا۔ اب تو سب کو یقین ہو گیا کہ یہ وہی ہے فور اوہ لاش قاہرہ دارالخلافہ مصر میں لائی گئی۔ اور وہاں کے عجائب خانہ کے ایوان قیصری میں رکھی گئی جس میں کہ اور بہت سے بادشاہوں اور بیگمات کی لاشیں رکھی گئی ہیں اس تحقیقات سے زمانہ قدیم کے آثار کے متلاشیوں کو تو جو خوشی ہوئی ہو گی وہ سمجھ میں آہی سکتی ہے مگر مسلمانوں کے لئے تو اس تحقیقات نے بڑی بڑی خوشیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ کیونکہ جو بات آج سے تیرہ سو سال پہلے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی۔ وہ آج پایۂ صداقت کو پہنچ رہی ہے کیونکہ جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں فرعون کے جسم کے محفوظ رہنے کی خبر سوائے قرآن شریف کے اور کسی کتاب میں نہیں ہے پس آج اس لاش نے نکل کر اسلام کی سچائی پر ایک بین دلیل قائم کر دی ہے کہاں تین ہزار سال کا مردہ اور کہاں اس کی نسبت یہ بتا دینا کہ یہ آنے والی قوموں کے لئے ہدایت کا باعث ہو گا۔ کچھ کم تعجب کی بات نہیں۔ یہ لاش عمدگی سے مسالہ لگی ہوئی ہے * اور فرعون کی شکل اچھی طرح سے پہچانی جاتی ہے اور بہت سی علامتیں جن کا ذکر کتب تواریخ میں تھا اس میں پائی جاتی ہیں اس کی تصویر بھی بعض اخباروں میں چھپی ہے لیکن وہ ہمیں دستیاب نہیں ہو سکی اس لئے یہاں نہیں دیجا سکتی۔ ورنہ اگر کہیں سے مل جاتی ۔ تو ہم کو بڑی خوشی ہوتی کہ ہم اس کو بھی شائع کر دیتے تا کہ لوگ دیکھتے کہ یہ وہ شخص ہے جو آج سے تین ہزار سال پہلے سمندر سمند رہیں میں غرق ہوا اتھا تھا اور اور ج جس کی مصر میں ایک خاص قسم کا مسالہ ہوتا تھا جسے لگا رینے سے مردہ لاش ہزاروں سال تک بھی خراب نہ ہوتی تھی۔ اور اس مسالہ کی بدولت فرعون کی لاش بھی ہم تک پہنچی ہے اس مسالہ کی گئی ہوئی لاش ممی کہلاتی ہے۔