انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 297

رہتے رہے تھے اور اس کے بھائیوں کی طرح پرورش پاتے رہے تھے اس لئے ان کو مخاطب کیا)آپ نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر اسے راہ دکھائی۔اس مباحثہ کے بعد آپس میں اور جھگڑے ہوتے رہے لیکن فرعون نے قطعاً اس کی پرواہ نہ کی اور بنی اسرائیل کود کھ دہی اور ایذاء رسانی میں بڑھتا گیا اور یہاں تک بڑھا کہ بنی اسرائیل چلا اٹھےکہ اے مو سیٰؑ تیرے آنے سے تو ہمارے دکھ اور بھی بڑھ گئے ہیں آخر معاملہ جب حد سے بڑھ گیا تواللہ تعالیٰ نے حضرت مو سیٰ ؑ کو حکم دیا کہ اب ملک مصر سے راتوں رات نکل بھاگو۔چنانچہ وہ ایک رات مصر سے چلے اور شام کا راستہ لیا۔خشکی کا راستہ جس میں آجکل نہر سویز نکالی گئی ہے دور تھا۔جلدی میں سمندر کے ساحل کی راہ لی اتنے میں فرعون منفتاح کو خبر ہوگئی وہ پیچھے بھاگا اور کناره سمندر پر ان کو جالیا۔بنی اسرائیل تو گھبرا گئے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم سے موسیٰؑ نے ان کو سمندر میں گس جانے کا حکم دیا۔پانی پھٹ گیا۔اور وہ میچ میں سے صاف نکل گئے۔فرعون کو بھی یہ نظارہ دیکھ کردلیری پیدا ہوئی۔اور وہ بھی مع الشکر اندر گھس گیا۔لیکن ایک دفعہ گھسنے کے بعد پھر باہر نکلنا نصیب نہ ہوا۔ایک ہی لہر سی آئی کہ اسے مع لشکر کے بہا کر لے گئی۔قرآن شریف میں آتا ہے کہ اس موقعہ پر اس نے کہا کہ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (یونس:۹۱)یعنی میں ایمان لے آیا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں لیکن یہ وقت تو بہ کانہ تھا۔بہت سے ایسے مواقع توبہ کے ملے پراس نے قدر نہ کی ہر دفعہ شرارت میں ترقی کی۔پس جب عذاب آہی گیا۔اور پانی نتھنوں سے نیچےاتر گیا تو اب توبہ کا کون سا موقعہ تھا۔اس لئے فرماتا ہے۔کہ لْــٴٰـنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ الْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةًؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ (یونس : ۹۲-۹۳ ) یعنی اب تو توبہ کرتا ہے اور پہلے نافرمانیاں کر چکا ہے۔اورفسادیوں کے گروہ میں شامل رہا ہے۔میں آج کے دن ہم تیرے بدن کو نجات دیں گے۔تاکہ تواپنےپچھلوں کے لئے نشان ہو اور لوگوں میں سے اکثر ہماری نشانیوں سے غافل ہیں اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی لاش غرق ہو نے سے بچ گئی بلکہ سمندر کے باہر جا پڑی اور اس کے لشکریوں نے اسے اٹھا کر دفن کیا۔یہ ایک ایسادعوی ٰہے کہ جس کا وجود قرآن شریف کے سوا اور کہیں نہیں پایا جاتا۔نہ توریت میں کہیں اس کا ذکر ہے نہ انجیل میں اور نہ انبیاء کی کتب میں۔لیکن یہ ثابت کرناکہ آج سے تین ہزار سال پہلے ایک شخص کی لاش دریا سے نکلی تھی یا نہیں؟ بہت مشکل تھا۔مگر جو(۹۳-۹۲ :