انوارالعلوم (جلد 1) — Page 294
بھی مصر کے اصلی باشندے نہ تھے* بلکہ مشرق سے جا کر اس ملک پر قابض ہو گئے تھے اور یہ بنی اسرائیل اہل عرب کی طرح سای النسل تھے۔چنانچہ حضرت ابراہیم ؑکے خاندان کا اس ملک سےخاص تعلق بھی اس خیال پر کچھ روشنی ڈالتا ہے۔پس ان کو ہر وقت خیال رہتا تھا کہ ایسا نہ ہو کوئی قوم زبردست ہو کر اصل باشند وں سے یا کسی اور قوم سے مل کر تم کو اس ملک سے نکال دے۔پس جب بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی طاقت انہوں نے دیکھی تو ارادہ کیا کہ کسی طرح اس کو روکا جائے۔چنانچہ انہوں نے بنی اسرائیل کو طرح طرح کے دکھ دینے شروع کئے اور علاوہ ان کے بچے قتل کرنے کے کل کی کل قوم سے اینٹیں پاتھنے کا کام لینا شروع کیا اور ان کے مشغول رکھنے کے لئے دوشہر فسوم اور رعمسیس تیار کروانے شروع کر دیئے۔جن میں سے موخر الذکر شہر اس وقت کےفرعون کے نام پر تھا اس شخص کا بیٹا منفتاح وہ مشہور شخص ہے جس نے ایک نبی کی مخالفت کر کے اپناہی نہیں بلکہ اپنے باپ دادوں کا نام بھی بدنام کر دیا کیونکہ بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک بڑھی کہ’’ ہرفرعون رامو سیٰ \"کی مثل نے تو گویا ہر ایک فرعون کو ظالم و خود سرہی قرار دے دیا۔یہ شخص بڑا متکبیرتھا۔اور اسے بھی اپنے باپ کی طرح عمارتیں بنانے کا بہت شوق تھا۔جس کا ایک باعث تو یہ تھا کہ بنی اسرائیل کام میں لگے ر ہیں دوسرے اس وقت ارد گرد کے بادشاہوں سے صلح ہونے کی وجہ سےاسے فرصت بھی بہت تھی اور تیسرے اس خاندان میں عمارتیں بنوانے کا شوق مدتوں سے چلا آیاتھا۔چنانچہ لفظ فرعون بھی اصل میں آر او ر او سے مرکب ہے جس کے معنے ہیں ’’ بڑا مکان ‘‘اول تویہ لفظ صرف مکانوں پر ہی بولا جاتا تھا لیکن غالبا ًًآخر میں شاہی قلعہ کی عظمت کو دیکھ کر اسی کے لئے یہ لفظ مخصوص ہو گیا اور شاہی قلعہ کے بعد خود پادشاه پر یہ لفظ بولا جانے لگا۔چنانچہ اس وقت بھی اس کی ایک مثال ہے۔اعلی سلطان روم کے وزراء کو باب عالی کہتے ہیں۔غرض یہ کہ امن کی زندگی خاندانی شوق اور پھر بنی اسرائیل کو کام میں لگائے رکھنے کے خیال نے فرعون منفتاح کو بھی عمارتوں کی تعمیر کی طرف متوجہ رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل میں بڑی کمزوری اور پست ہمتی پھیل گئی اور ان کے دل فرعون کے ڈر سے مرعوب ہو گئے۔چنانچہ قرآن شریف میں ہے قال *چنانچہ مصری زبان میں فراعنہ کے خاندان کو بکسوز کہتے تھے جس کے معنے ہیں اجنبی۔چونکہ یہ لوگ مشرق سے گئے تھے۔اس لئے ان کانام بھی اجنبی پڑ گیا تھا۔بائبل سے بھی اس کا کچھ پتہ چلتا ہے اور وہ یہ کہ خروج باب آیت ا۰،۱۱ امیں ہے اور اس نے فرعون نے اپنے لوگوں سے کہا دیکھو کہ بنی اسرائیل کے لوگ ہم سے زیادہ اور قوی تر ہیں۔تو ہم ان سے دانشمندانہ معاملہ کریں تانہ ہووے کہ جب وہ زیادہ ہوں اور جنگ پڑے تو وہ ہمارے دشمنوں سے مل جائیں اور ہم سے لڑیں اور ملک سے نکل جاویں اس سے بھی معلوم ہو تا ہے کہ فراعنہ اجنبی تھے کیونکہ ڈیڑھ سو سال میں دس بارہ آدمیوں کی نسل اسقدر کب بڑھ سکتی ہے کہ ملک کے اصل باشندوں سے بھی زیادہ ہو جائے پس معلوم ہوتا ہے کہ وہ باہر سے آئے ہوئے تھے اور تعداد میں تھوڑے ہی تھے۔باقی ان دونوں خاندانوں کے سوا اور قومیں بستی ہو گی۔+