انوارالعلوم (جلد 1) — Page 293
انوار العلوم جلد 1 بسم الله الرحمن الرحیم ۲۹۳ فرعون موسی محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم فرعون موسى فرعون کا حال قرآن شریف میں پڑھ کر اکثر لوگ تو یہی سمجھتے ہیں کہ یہ بھی کسی خاص بادشاہ کا نام تھا۔ مگر اصل یہ ہے کہ جیسے چین کے بادشاہ فغفور ایران کے کسری ، روم کے قیصر جاپان کے میکاڈ اور روس کے زار کہلاتے ہیں۔ اسی طرح مصر کے بادشاہ اور صاحب تخت کو فرعون کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ اس لئے جیسے حضرت یوسف کے وقت میں فرعون حکمران تھا۔ اسی طرح حضرت موسی کے زمانہ میں بھی اس کی حکومت تھی لیکن یہ فرق ضرور ہے کہ وہ فرعون یوسف تھا اور یہ فرعون موسی اس نے تو ایک نبی کی عزت و اکرام کر کے اپنے ملک کو قحط کی مصیبت سے بچالیا اور اس نے ایک نبی کی ہتک کر کے اپنا ملک اور دولت دونوں کو ویران اور برباد کروایا اس نے تو حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کو بلا کر بڑے آرام سے رکھا اور اس نے اس مہمان کے بیٹے بڑی بے دردی سے قتل کروائے پس فرعون یوسف اور فرعون موسیٰ میں زمین و آسمان کا فرق ہے وہ بالا بخت تھا یہ کم بخت یہ یقینی طور سے تو نہیں بتایا جا سکتا کہ فرعون یوسف اور فرعون موسئی میں کتنے بادشاہ گزرے ہیں مگر پھر بھی انداز آ کہا جا سکتا ہے کہ چودہ پندرہ تو گزرے ہی ہوں گے ۔ کیونکہ بنی اسرائیل نے مصر آکہا جاسکتا تو کی سرزمین میں قریباً دو صدیاں گزار دی تھیں اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے خوب ترقی کی اور معدودے چند انفاس سے ہزاروں کی تعداد کو پہنچ گئے۔ اس لئے فراعنہ ان سے کسی قدر خائف رہنے لگے جس کا نتیجہ ہوا کہ ان پر طرح طرح کے ظلم ہونے شروع ہو گئے۔ فراعنہ (فرعون کی جمع) کے ان سے ڈرنے کی ایک یہ وجہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ خود فراعنہ