انوارالعلوم (جلد 1) — Page 283
انوار العلوم جلد 1 ۲۸۳ سے دور کرلے لیکن میری مرضی نہیں۔ بلکہ تیری مرضی کے موافق ہو اور آسمان سے ایک فرشتہ اس کو دکھائی دیا۔ جو اسے قوت دیتا تھا۔ اور وہ جانکنی میں پھنس کے بہت گڑ گڑا کے دعا مانگتا تھا اور اسکا پسینہ لہو کی بوند کی مانند ہو کر زمین پر گرتا تھا۔ اور دعا سے اٹھ کر اپنے شاگردوں کے پاس آیا اور انہیں غم سے سوتے پایا۔ اور ان سے کہا کہ تم کیوں سوتے ہو ؟ اٹھ کر دعا مانگو تا کہ آزمائش میں نہ پڑو ۔ اب ان دونوں حوالوں سے مندرجہ ذیل واقعات معلوم ہوتے ہیں۔ اول تو یہ کہ اس واقعہ کی اطلاع ملنے سے یسوع پر ایسا غم طاری تھا کہ اس کی حالت موت کی طرح ہو گئی تھی۔ دوم یہ کہ اس ۔ دوم یہ کہ اس نے اپنے شاگردوں سے ؟ شاکردوں سے بڑے زور سے ال التجا کی کہ وہ اس کے لئے دعا کریں تاکہ وہ اس مصیبت سے بچ جائے ۔ سوم یہ کہ وہ خود بھی بہت گریہ و زاری سے اس تلخ پیالہ کے مل جانے کی دعا کر تا رہا چہارم یہ کہ اس کی اپنی مرضی صلیب پر لٹکنے کی نہ تھی بلکہ مجبور تھا۔ اور خدا تعالیٰ کے حکم کے مقابلہ میں اس کا کچھ بس نہ چلتا تھا۔ پنجم یہ کہ اس کا در دیہاں تک بڑھ گیا کہ خدا تعالیٰ کو تسلی دینے کے لئے ایک فرشتہ نازل کرنا پڑا۔ ششم یہ کہ پھر بھی اس کی تسلی نہ ہوئی بلکہ اس نے دعا میں اس قدر زور لگایا کہ اس کا پسینہ خون کی طرح سرخ ہو کر بننے لگا۔ ان سب باتوں کو غور سے دیکھو تو خود بخود کھل جائے گا کہ یسوع کا قطعا منشاء نہ تھا کہ وہ صلیب پر لٹکایا جائے بلکہ اس خبر کو سن کر اس کے ہوش اڑ گئے اور صبر کا دامن ہاتھ سے جاتا رہا۔ اور ہلاکت کا خوفناک منظر اس کی آنکھوں کے آگے پھر گیا۔ اور زمین پاؤں کے تلے سے نکل گئی اور دنیا اندھیر ہو گئی۔ اور اس نے اس خیال سے کہ شاید اس کی نہیں تو اس کے مریدوں کی دعا ہی بارگاہ الہی میں سنی جائے ان سے التجا کی اور عاجزی سے درخواست کی کہ وہ اس کے لئے دعا کریں۔ کہ شاید وہ ابتلاء ٹل جائے۔ اور وہ مصیبت گزر جائے اور خود بھی اس حد تک دعا کی کہ شدت غم میں پسینہ کی جگہ خون بہنے لگا۔ تو جس شخص کا یہ حال ہو کہ وہ گھٹنوں کے بل گر گر کر اپنے بچائے جانے کی درخواست کرے اور گڑ گڑائے اور روئے اور چلائے اور آسمان کو سر پر اٹھالے اس کی نسبت کون عظمند کہہ سکتا ہے کہ اس نے بنی نوع انسان کے گناہ اپنے سر پر اٹھا لئے اور خوشی سے صلیب پر چڑھ گیا۔ اگر یہی آثار خوشی کے ہوتے ہیں۔ تو جیل خانوں میں سینکڑوں آدمی ہر سال اسی خوشی سے جانیں دیتے ہیں۔ لوقا کا یہ لکھنا کہ اس کی تسلی کے لئے فرشتہ بھیجا گیا ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کا غم کمال تک پہنچ گیا یہ کہ تھا۔ ورنہ خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ فرشتہ بھیجتا۔ کہ جو اس کے دل کو آکر سہارا دیتا۔ مگر نجات