انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 278

ہے کہ اس کا بنانے والا کوئی ہو نا چاہئے۔لیکن عقل قطعاً اس بات پر گواہی نہیں دیتی کہ ایک سےزیادہ خالقوں نے اس عالم کو بنایا ہے۔کیونکہ یا تو اس دنیا کو ایک ہی ہستی نے بنایا ہے یا بہت ہی ہستیوں نے بنایا ہے۔اور ہر ایک اس کے ایک حصہ کے بنانے پر قادر تھی اور دوسرے پر ہیں۔یا یہ کہ ہر ایک ہستی اس دنیا کو پیدا کر سکتی تھی لیکن اس نے اسے بتایا نہیں بلکہ سب نے مل کر بنایا ہے۔سوپہلی صورت کو تو عقل تصور میں لا سکتی ہے اور دوسری دو صورتوں کو نہیں کیونکہ دوسری صورت میں تو خدا تعالیٰ ناقص ٹهہر تا ہے۔اور تیسری صورت کو عقل دریافت نہیں کر سکتی۔کیونکہ ہمارے پاس کوئی آلہ نہیں کہ جس کے ذریعے سے معلوم کر سکیں کہ یہ دنیا ایک نے بنائی ہے یا دونےیا تین نے یا چارنے۔پس بہرحال یہی صورت اختیار کرنی پڑے گی کہ یہ سب عالم ایک طاقتور خدا نے بنایا ہے۔اور اسی کی موید ہیں وہ آیتیں جو کہ میں نے خود مسیحیوں کی کتب مقدسہ سے نقل کی ہیں۔پس جب خدا تعالیٰ کی توحید ثابت ہوگئی تو کفارہ کے لئے ایک خدا کے مصلوب کر دینے کی گنجائش بھی باقی نہ رہتی۔اس کے بعد دوسرا سوال یہ ہے کہ آر ایک سے زیا دہ ہستیاں قبول بھی کر لی جائیں تو پھر اس کافیصلہ کون کرے گا کہ وووو ہیں یا تین میں یا چار ہیں کیونکہ اگر ایک سے زیا وہ خدا میں تو پھر یہ بات برابر ہے کہ وہ دو ہوں یا ہزاروں ہوں میں اس کا ثابت کرنا بھی مسیحیوں کے لئے دقّت طلب ہو گا۔اور جبکہ مسیحیوں کے عقیدہ کے مطابق مصلوب ہونے والا بیٹا چاہے تو یہ ثابت کرنا بھی مشکل ہوگاکہ آیا وہ خدا آپس میں ولدیت کا تعلق رکھتے ہیں یا بھائی بھائی ہیں کیونکہ جب تک ان میں سےایک بیٹانہ ثابت ہولے تومسیح کا مصلوب ہونا بے فائدہ رہتا ہے۔پھر یہ مان کر کہ تین خداہیں۔اور ان میں سے دو کا تعلق آپس میں باپ بیٹے کا ہے۔یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں مسیح کو ہی بیٹا تصور کیا جائے کیا وجہ ہے کہ جب اس سے بہتر آدمی دنیا میں موجود ہیں تو انہیں ابن اللہ کا کام دیا جائے کیونکہ خدا مخلوق سے بہرحال زیادہ طاقتور ہو نا چاہئے۔پس مسیح کی طرح خدا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اس سے زیادہ لائق اور زیادہ کامیاب آدمی دنیا میں موجود ہیں پس اگر ضرور کسی کو دنیا میں ابن اللہ بنانا ہے تو کیوں نہ ان کو اسی خطاب سے پکارا جائے۔کیونکہ وہ اس کے زیادہ مستحق ہیں اور جب اس مقابلہ پر کوئی دوسرا شخص مسیح کو نیچا دکھائے تو پھر مسیح کیابنّیت کے ساتھ کفارہ کا مسئلہ بھی خود بخود رد ہو جائے گا۔اور چونکہ اس موقعہ پر مسیحیت اور اسلام کا مقابلہ کرتا ہوں اس لئے رسول اللہﷺ اور مسیح ؑکی زندگیوں کا نہایت مختصر الفاظ میں مقابلہ کر کے