انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 274

انوار العلوم جلد 1 ۲۷۴ نجات کیونکہ خدا تعالیٰ تو مالک ہے اور ہر چیز اس کی اپنی بنائی ہوئی ہے۔ اور اس کے قبضہ قدرت میں ہے بر خلاف اس کے بادشاہوں اور گورنمنٹوں کے حالات اور ہیں کیونکہ وہ اپنی رعایا کے مالک نہیں ہوتیں ۔ بلکہ ان کے جھگڑوں اور فسادوں کے دور کرنے کے لئے ججوں کی طرح ہوتی ہیں۔ اور خواہ بظاہر ایک گور نمنٹ دوسرے ملک کو بزور بازو ہی فتح کرے اور اپنا مال و دولت ہی خرچ کر کے اس پر قابو پائے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس کا حال ایسا ہی ہے کہ جیسے چند آدمی مل کر ایک شخص کو مقرر کر دیں کہ تم ہمارا فیصلہ کیا کرو تاکہ ہم میں جھگڑے اور فساد نہ پڑیں۔ پس جیسا کہ اس شخص کا کام نہیں کہ کسی کو کچھ دے دے یا رحم کر کے معاف کرے ایسا ہی گورنمنٹ کا بھی یہ کام نہیں کہ وہ اپنی طرف سے کسی پر خاص رحم کرے کیونکہ وہ تو ایک ایجنٹ کی طرح ہے جسے پبلک نے اپنے کام نکالنے کے لئے مقرر کیا ہے اور پھر جو گورنمنٹ کی طرف سے حج مقرر ہو۔ حج مقرر ہوتے ہیں ان کا تو بالکل کوئی دخل ہی نہیں کیونکہ نہ صرف وہ لوگوں کے حقوق کے مالک ہی نہیں بلکہ علاوہ اس کے وہ مقرر ہی اس کام پر کئے گئے ہیں کہ جیسے واقعات ان کے سامنے پیش کئے گئے ہوں ان کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اور گورنمنٹ نے ان کا اختیار ہی اس حد تک رکھا ہے پس ان کا مقابلہ خدا تعالیٰ سے کرنا کیسا سفیہا نہ فعل ہے کیونکہ یہ لوگ تو کوئی بھی اختیار نہیں رکھتے اور پبلک سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔ ان کا فرض منصبی یہی ہے اور وہ اس بات کی تنخواہ لیتے ہیں کہ فریقین کے حالات سن کر اپنے اختیارات کے اندر اندر کسی کو چھوڑ دیں۔ اور کسی کو سزا دے دیں لیکن خدا تعالیٰ تو کسی کا مقرر کردہ نہیں ہے اور نہ وہ ان کی طرح بے اختیار ہے بلکہ چونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور بنایا ہے اور پھر اس کی زندگی کے قائم رکھنے کے لئے اور مختلف اشیاء کو بھی خلق کیا ہے اور اس کے آرام کے لئے طرح طرح کے سامان مہیا کئے ہیں اس لئے وہ انسان کا بلکہ ہر ایک چیز کا مالک ہے اور اس پر تصرف رکھتا ہے اور پھر بدلہ دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ پس اگر وہ کسی پر رحم کرے تو یہ اس کے شایان شان ہے۔ لیکن اگر حج بلا اختیار کے کسی پر رحم کرے تو گویا امانت میں خیانت کرتا ہے۔ کیونکہ وہ کام کرتا ہے جو اس کے سپرد نہ تھا اور اگر اسے اختیار ہوتا اور پھر کسی پر رحم کرتا تو اس میں کوئی ہرج نہ تھا۔ اور خدا تعالی مالک ہے اس لئے اسے رحم کرنے کا پورا اختیار ہے اور یہی وجہ ہے کہ حج عام طور پر رحم نہیں کرتا بلکہ عدل کرتا ہے اور خدا تعالیٰ عام طور پر عدل ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ رحم بھی کرتا ہے پس ججوں یا گورنمنٹ کا مقابلہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کرنا ہو قوفی ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بھی غلط ہے کہ گورنمنٹ رحم نہیں کرتی بلکہ گورنمنٹ کے رحم کثرت