انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 273

حال اور ہے ، گورنمنٹ کے جج اور مدعا علیہ دونوں کا حال نہیں جانتے۔ان کو کیا معلوم کہ آیااپنی غلطی پر پریشان و پشیمان ہونے والا انسان واقعہ میں سچا ہے یا شرارت کرتا اور سزا سے بچنا چاہتاہے، پس جس کو دوسرے کے ارادہ اور خیالات سے واقفیت ہی نہ ہو تو وہ کس طرح جرأت کرکےاسے چھوڑ سکتا اور معاف کر سکتا ہے۔کیونکہ ممکن ہے کہ وہ مجرم جسے مجسٹریٹ چھوڑنے کی نیت رکھتا ہو اپنے دل میں یہ ارادہ کر رہا ہو کہ اب کے چھوٹے تو ضرور ایسی احتیاط سے جرم کروں گا کہ کسی کو علم ہو ہی نہ سکے مجسٹریٹ کی حالت تو بہت ہی خطرناک ہوتی ہے۔وہ بے چارہ تو بالکل اندھیرے میں ہو تا ہے اور اصلی حالت سے ناواقف۔اسے تو خود ظالم و مظلوم میں ہی امتیاز نہیں ہوتا اور محض تاریکی میں پڑا ہوا اندازوں سے کام لیتا ہے اور حاطب اللیل کی طرح خطا و ثواب دونوں کا مرتکب ہوتا ہے۔لطیفہ۔کہتے ہیں کہ ایک بزرگ شہر کے قاضی مقرر کئے گئے تو ان کے دوست ان کو ملنے گئےاور بڑی خوشی ظاہر کی اور مسرت کا اظہار کیا مگر جب اندر بلائے گئے اور ان سے ملاقات ہوئی تودیکھا کہ بڑے زور سے رو رہے ہیں اور کثرت گریہ و زاری سے ہچکیاں بندھی ہوئی ہیں اور سانس اکھڑا ہوا ہے دوستوں نے کہا حضرت اس وقت یہ رونا کیسا اوراس کے موسم کی برسات کے کیا معنی یہ تو خوشی کا وقت تھا اور دعوتوں کا موقعہ آپ اس قدر گھبرا کیوں رہے ہیں اس بزرگ نے جواب دیاکہ احمقو تم نہیں جانتے کہ میں کیسی خطرناک حالت میں ہوں۔میں ایک نا بینا ہوں جو ووو بیناؤں کےفیصلہ کے لئے مقرر کیا گیا ہوں اور ایک جاہل ہوں جو دو عالموں کے فیصلہ کے لئے چنا گیا ہوں کیونکہ مدعی اور مدعا علیہ میرے پاس آئیں گے اور وہ دونوں اپنا اپنا مال خوب جانتے ہوں گے کہ ہم جھوٹے ہیں یا بچے ہیں مگر میں بالکل ناواقف اور جال ان کا فیصلہ کروں گا۔کیا یہ خوش ہونے اورفرحت ظا ہر کرنے کا موقعہ ہے یا رنج و غم میں کڑھنے کا۔اس لطیفہ میں جو جج صاحب کی حالت بیان کی گئی ہے۔واقعہ میں صحیح اور درست ہے۔اور اس میں سرِمو فرق نہیں پھر باوجود اس قدر عجز کے جج کیا کر سکتا ہے اور کس طرح ایک مجرم کو بخش سکتاہے جبکہ وہ نہیں جانتا کہ یہ شخص شرارتی ہے یا سچے دل سے توبہ کرتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کسی کے دل میں کیا مخفی ہے وہ شرارتی اور سچے آدمی میں فرق کر سکتا ہے اور دونوں کےارادوں کو جانتا ہے۔اس لئے وہ توبہ قبول کر سکتا ہے۔دوسرے یہ کہ گورنمنٹ اور خدا تعالیٰ کے احکام کا آپس میں مقابلہ کرنا ہی سخت غلطی ہے۔