انوارالعلوم (جلد 1) — Page 265
جاتا ہے یا سزا میں بہت تخفیف کی جاتی ہے۔اور باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ جن کے پاس کوئی بد یہی ثبوت اس بات کا نہیں ہو تاکہ واقعی یہ فعل کس ارادہ سے ہؤاتھا۔مگر جس ہستی کے ساتھ تو بہ کا معاملہ درپیش ہے اسلامی عقائد کی رو سے وہ علیم و خبیرا و ر جبار ( مصلح) ہے اور اسلام کا خداذره ذرہ سی بات کو جانتا ہے اور کوئی چیز نہیں خواہ وہ مادی ہو یا غیر مادی جو اس کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوپھر اس سے کسی کا ارادہ کس طرح مخفی ہو سکتا ہے اور وہ بغیر ارادہ کا لحاظ کرنے کے کس طرح کسی مجرم کو سزا دے سکتا یا چھوڑ سکتا ہے ، حالانکہ وہ رحم کرتاہے اور ظلم نہیں اور فساد نہیں بلکہ اصلاح چاہتا ہے۔چنانچہ سورۃ مائدہ میں فرماتا ہے کہ لكن يريد ليطھركم (المائده :۷ ) یعنی اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ تم کو پاک کرے۔پس ایسا شخص توگند پھیلاتا ہے اور توبہ کے بہانے سے دنیا میں فساد چاہتا ہے۔پس وہ کب اس قابل ہو سکتا ہے کہ اس گندے ارادہ کے ساتھ توبہ کے دروازومیں داخل کیا جائے۔چنانچہ خدا تعالیٰ تو ایسے خبیث لوگوں کے لئے فرماتا ہے کہ : اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (الاعراف: ۵۷،۵۶) یعنی خبردار خدا تعالیٰ کےساتھ معاملہ کرنے میں شوخی اور شرارت سے کام نہ لو۔بلکہ جب اسے پکارو تو بڑی عاجزی اورتضرع سے پکارو او ر علاوہ اس کے لوگوں سے بالکل الگ ہو کر بھی اسے یاد کرتے رہا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند کرتا ہے اور یاد رکھو کہ وہ احکام جو بغرض اصلاح اترے ان کےنزول کے بعد فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرو۔بلکہ اللہ تعالیٰ کو خوف و طمع سے یاد کرو۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمت محسنین سے قریب ہے پس اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو احکام اصلاح کے لئے اترے ہیں اگر تم باوجود ان کے اترنے کے غریبوں کے ساتھ شرارت اور فساد کی راہ تلاش کرد گے تو تمهارا انجام تک نہ ہوگا۔پس جو شخص اس بدار ارہ سے گناہ کرتا ہے کہ توبہ کی آڑ میں میں سزا سے محفوظ رہوں گا۔وہ سخت دھوکے میں ہے اور سخت ٹھوکر کھائے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ دھوکہ نہیں کھاتا۔اور ایسادھوکہ دینے والا انسان تو مومن ہی نہیں کیونکہ اس کو صفات الہیٰہ پر ایمان ہی نہیں کہ وہ یہ سمجھ سکے کہ خدا تعالیٰ ان سب کمزوریوں سے پاک ہے پس اس قسم کے اراده والا انسان تو بجائے اس کے کہ توبہ سے کچھ فائدہ اٹھائے تو سب سے پہلے میں ہلاک کیا جائے گا اور عذاب الہٰی اس پر نازل ہو گا۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کو ایسانا قص سمجھتا ہے کہ دو دھوکے میں آجاتا ہے اور اس وجہ سے اسے دھوکہ دینا چاہتا