انوارالعلوم (جلد 1) — Page 264
مگر کوئی نہیں جو گورنمنٹ کے بر خلاف شکایت کرے کہ اس نے سخت ظلم کیا اور ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی ہے کہ اس قیدی کو میعاد سے پہلے ہی چھوڑ دیا ہے کیونکہ سب دیکھتے ہیں کہ اس قیدی کی حالت قابل رحم تھی اور گورنمنٹ نے جو کچھ کیا بالکل مناسب کیا۔پس اگر خدا تعالیٰ بھی کسی مجرم کی حالت قابل رحم دیکھے اور جان لے کہ شرم و حیا کی آگ سے اس کی ہوا و ہوس جل کر خاک ہو گئی ہے اور ندامت کے مارے اس کے لئے زندگی وبال جان ہے تو اسے کیوں نہ بخشےاور کیوں اس کے دل میں اطمینان پیدا نہ کر دے اور کیوں نہ کہے کہ لا تثريب عليكم اليومغرض کہ گناہ کا بخشنا ظلم نہیں ہوتا۔ظلم وہ ہے کہ جس میں کسی کی حق تلفی ہو اور اس میں کسی کی حق تلفی نہیں ہاں بعض اوقات گناہوں کانہ بخشا ظلم ہو جا تا ہے۔دوسرا اعتراضدوسرا اعتراض یہ کیا جا تا ہے کہ کیا خدا تعالیٰ گناہوں کوپسند کرتا ہے کہ توبہ کو قبول کرتا ہے کیونکہ جب انسان کویقین ہو جائے کہ میں جتنے گناہ بھی کر لوں اور کتنے قصور بھی مجھ سے سرزد ہو جائیں ایک تو بہ سےسب پر پانی پھر جائے گا اور میں پھر پاک و صاف ہو جاؤں گا اور کوئی دکھ اور درد مجھ کو نہ پہنچے گا اور کسی قسم کی سزا مجھ کو نہ ملے گی۔تو اس صورت میں وہ گناہوں پر دلیر ہو جائے گا اور کہے گا کہ اب توگناہ کر لو پھر توبہ کرلیں گے اور امن کی کوئی صورت نہ باقی رہے گی اور گناہوں کی کثرت سے دنیا بھرجائے گی مگر یہ اعتراض گو کوتاہ چشموں کی نظروں میں کچھ وقعت رکھے مگر قرآن شریف اور قوانین نیچر کے دیکھنے والے اس کی حقیقت سے آگاہ ہیں کہ محض بے حقیقت ہے۔کیونکہ جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں تو بہ اصلاح کے لئے ہے نہ کہ فساد پھیلانے کے لئے اگر کوئی شخص توبہ کے مسئلہ کی آڑ میں گناہ پھیلانا چاہتا ہے تو وہ شریر اور فسادی ہے اور چونکہ معاملہ ایک علیم و خبیر ہستی سے ہے اس لئے اس کی یہ بات چل نہیں سکتی۔ایک انسان دوسرے انسان کاارادہ نہیں جان سکتا۔مگر پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ عدالتوں میں اس بات پر بڑے زور سے بحث ہوتی ہے اور جرح قدح ہوتی ہے کہ مجرم کا ارادہ کیا تھا اور چند قرائن سے ثابت کیا جا تا ہے کہ مجرم نے جوجرم کیا ہے اس کے سرزد ہوتے وقت اس کا ارادہ فساد کا تھا یا صلح کا اور دوسری بات یہ دیکھی جاتی ہے کہ آیا جس وقت مجرم نے یہ جرم کیا اس وقت وہ کسی اشتعال یا جوش میں تھا یا ٹھنڈے دل سے اور سوچ بچار کر کے اس سے وہ فعل شنیعہ سرزد ہوا تھا۔اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے وہ کام نیک نیتی سے یا کسی خاص جوش یا غیرت با غضب کے ماتحت کیا ہے۔تو اس کے جرم کو یا تو معاف کیا