انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 263

انوار العلوم جلدا ۲۶۳ نجات اور جبکہ تم دعا کے لئے کھڑے ہوتے ہو۔ اگر تمہیں کسی پر کچھ شکایت ہو تو اسے معاف کرو تا کہ تمہارا باپ بھی جو آسمان پر ہے تمہارے قصوروں کو معاف کرے اور اگر تم معاف نہ کرو گے۔ تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے۔ تمہارے قصور معاف نہ کرے گا“ (مرقس ۱۱ آیت ۲۶٬۲۵) آریوں کا خدا دیالو کر پالو ہے۔ اس سے بھی معاملہ فیصل ہو جاتا ہے۔ ان اعتراضوں کا جواب جو تو بہ پر کئے جاتے ہیں مسیحی صاحبان اور ان کی دیکھا دیکھی آریہ مہاشے تو بہ کے مسئلہ پر پانچ اعتراض کرتے ہیں جن کا جواب دینا بھی میں اس جگہ ضروری سمجھتا ہوں اور گو کہ اس سے مضمون لمبا ہو جائے گا۔ مگر اس کے بغیر مضمون کا ایک حصہ ناقص رہ جاتا ہے اس لئے ضروری ہے۔ پہلا اعتراض توبہ کی قبولیت پر یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ تو بہ قبول کرتا ہے تو گویا ظالم پہلا اعتراض ہے (نعوذ باللہ ) ۔ مگر ایسا اعتراض کرنے والے ظلم کی حقیقت کو جانتے ہی نہیں۔ کیونکہ جیسا کہ میں اپنے مضمون : مون میں ثابت کر آیا ہوں جب ایک شخص گناہوں سے پچھتا کر اور اپنی غلطی سمجھ کر واپس آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرتا ہے تو اس وقت اس کی توبہ کا قبول نہ کرنا ایک حد تک ظلم کہلا سکتا ہے۔ مگر اس کی توبہ کو قبول کر لینا اور اس کے گناہوں پر چشم پوشی کرنا کوئی ظلم نہیں بلکہ احسان کہلاتا ہے۔ پس اگر خدا تعالیٰ کسی پر احسان کرے تو اس پر کوئی الزام نہیں آتا بلکہ یہ بات اس کی شان کے شایاں ہے کیونکہ یہ بات ہر اک پر عیاں و مبرہن ہے کہ اگر ایک شخص کسی کو اس کے کسی فعل کے بغیر کچھ روپیہ بطور احسان کے دے دے تو اس کو لوگ ظالم نہیں سمجھتے۔ بلکہ جیسے کہ میں بیان کر چکا ہوں ظلم کے معنی تو یہ ہیں کہ کسی شخص کی حق تلفی کی جائے اور جب تک کسی کی حق تلفی نہ ہو تو وہ عطا ظلم نہیں بلکہ احسان ہوتی ہے مثلاً ہم جو ایک فقیر کو کچھ دیتے ہیں تو ہمارے نوکر کبھی شکایت نہیں کر سکتے کہ تم نے ہم پر ظلم کیا بلکہ اگر ہم ان کی تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ کر فقیروں کو دیں تو اس وقت ان کی شکایت بجا ہو گی کہ ہمارا حق کسی اور کو کیوں دیا گیا یا مثلاً ایک آقا کسی مزدور کی کمزور حالت کو دیکھ کر اسے وقت سے پہلے رخصت کر دے تو اسے ظلم نہیں کہتے ۔ ہم گورنمنٹ کو ہی دیکھتے ہیں کہ بعض قیدی اس لئے میعاد سے پہلے چھوڑ دیتی ہے کہ ان کی صحت خطرہ میں تھی۔