انوارالعلوم (جلد 1) — Page 257
انوار العلوم جلد 1 ۲۵۷ نجات مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ (از ۵۵۰۵۲۰) ۵۵۰۱) یعنی اے میرے بندو! کہ جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی۔ اور گناہوں میں ڈوب گئے اور خطاؤں میں غرق ہو گئے۔ اور ہر وقت ظلم و تعدی میں لگے رہے ہو اور جنہوں نے خدا کی راہ بھلا کر اور راہ اختیار کرلی ہے اور اس مہربان اور بچے محبوب کو چھوڑ کر اور اشیاء سے دل لگایا ہے اور حقیقت کی بجائے جھوٹ کو پسند کیا ہے اور خالق کی جگہ مخلوق کو چن لیا ہے۔ اور نیکی کو ترک کر کے بدی کو لے لیا ہے۔ ناامید مت ہو اور میری درگاہ سے مایوسی مت کرو۔ کیونکہ میں تو سب گناہوں کو معاف کر دیا کرتا ہوں اور ہر ایک قسم کی خطاؤں سے در گذر کرتا ہوں اور بڑا مہربان ہوں تم گھبراتے کیوں ہو اور مایوس کیوں ہوتے ہو جس وقت تم کو سمجھ آئے۔ اور تم معلوم کر لو کہ اصل کی راہ کونسی ہے اور سلامتی کسی طریق میں ہے اور ہدایت کا راستہ کونسا ہے اور نیکی اور تقوی کیا ہے اور بدی میں کون کون سے نقائص ہیں اور گناہوں سے کیا نقصان ہے اور تمہارے دل نیکی کی طرف جھک جائیں اور تم کو سچائی کی لو لگ جائے اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے تم بے چین ہو جاؤ تو اس وقت میری طرف جھکو۔ اور اپنے گناہوں کا خیال مت کرو اور معنی مامعنی سمجھ کر اپنی پچھلی زندگی کو بھلا دو۔ اور آئندہ کے لئے بہتری کا ارادہ کر لو اور یاد رکھو کہ میں تمہارا رب ہوں جس نے تمہاری جسمانی کمزوریوں کے لئے اور بیماریوں کے لئے ہر ایک قسم کی دوا تجویز کی ہے۔ اور تمہاری جسمانی ضروریات کے لئے سامان مہیا کئے ہیں اور والدین کی محبت بھری گود سے تمہاری مدد کی ہے پس جب کہ میں ایسا رب ہوں تو اپنی روحانی مصیبتوں کے وقت بھی گھبراؤ مت اور بلا کھٹکے تو بہ کرو۔ اور میری طرف جھک جاؤ اور آئندہ میری فرمانبرداری کا اقرار کر لو اور ارادہ کر لو تاکہ تم اس عذاب سے بچ جاؤ جو کہ جب آتا ہے تو پھر کسی کی مدد نہیں کی جاتی۔ پس کیسی پاک ہے یہ تعلیم اور کیسا پیارا ہے یہ کلام جو اسلام نے نجات کے بارے میں بیان فرمایا ہے جو نہ صرف کل اعتراضوں اور کمزوریوں سے ہی مبرا ہے بلکہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اور ہمارے روز مرہ کے مشاہدات کی تائید کرتا ہے۔ کیونکہ والدین کو الگ کر کے جب کہ ہمارے دوست و آشنا عزیز و اقرباء اور ہمسائے اور واقف اور ملاقاتی تک بھی ہم پر رحم کرتے ہیں اور ہماری کمزوریوں پر چشم پوشی کرتے ہیں اور اگر ہمارے قصوروں کو یاد رکھیں اور حافظہ سے گرانہ دیں تو کینہ تو ز اور کمینہ کہلاتے ہیں تو پھر وہ خدا جو ہمیں وجود میں لایا اور ہمارے لئے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ہر قسم کی نعمتوں سے ہمیں بہرہ مند کیا اور کرم اور فضل سے ہمارا گھر بھر دیا۔ اور