انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 253

انوار العلوم جلد 1 ۲۵۳ نجات زندہ نہ رہ سکے گا۔ پس جبکہ والدین جو صرف بچہ سے ایک عارضی تعلق رکھتے ہیں اور اس کے اس دنیا میں لانے کے وسیلہ ہی ٹھرے ہیں اور اس کے پیدا کرنے میں خود ان کی کوششیں کوئی دخل نہیں رکھتیں اس ذرا سے تعلق کی وجہ سے اپنے بچہ پر اس قدر رحم کرنے لگتے ہیں جو محبت بلکہ عشق کے نام سے موسوم ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ جو کہ اصل خالق اور مالک ہے کیا رحم نہ کرے گا؟ غرض کہ انسان بچپن سے ہی رحم کا محتاج ہے۔ والدین جب تک اس پر رحم نہ کریں وہ ایک دم بھی گزارہ نہیں کر سکتا۔ پھر آگے چل کر ہم دیکھتے ہیں تو بچوں کے بہت سے قصوروں پر نظر اندازی کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ بے علم بچہ ہے اس کو کیا سزا دینی ہے۔ چنانچہ بچوں کو سزا دینے والے سخت بے رحم اور ظالم تصور کئے جاتے ہیں اور اپنے بچے تو الگ رہے دوسرے کے بچوں کو سزا ملتے ہوئے دیکھ کر بھی انسانی فطرت جوش میں آجاتی ہے اور فور اسفارشیں شروع ہو جاتی ہیں کہ یہ بے علم معصوم بچہ ہے اس کو سزا کیوں دیتے ہو۔ اور یہ سب اس لئے کہ وہ ناقص ہے اور اس کا علم اپنے کمال کو نہیں پہنچا۔ اسی طرح جب انسان بڑا ہوتا ہے تو پھر اس وقت یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ جو ان آدمی ہے۔ نادانی کی وجہ سے جوش جوانی میں ایسا کام کر بیٹھا۔ اور اس کے لئے بھی ایک راہ رحم کرنے کی نکال لی جاتی ہے اور جب وہ ذرا بوڑھا ہوا تو پھر کہا جاتا ہے ضعیف آدمی ہے سزا کے قابل نہیں معافی بہتر ہے۔ غرض کہ فطرت انسانی ہر وقت رحم کی ملتی رہتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں رحم کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور وہ ہر وقت اپنے اوپر رحم چاہتا ہے اور دوسرے کے لئے بھی رحم کی درخواست کرتا ہے مثلاً جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا اور ان کے قصوروں اور خطاؤں کو نہیں بخشا وہ اپنے ہم چشموں کی نظروں میں ذلیل ہو جاتا ہے اور اوچھا کہلاتا ہے۔ اور یہ صفت انسانوں میں ہی نہیں بلکہ حیوانوں میں بھی بعض دفعہ نظر آتی ہے۔ غرضیکہ احسان و مغفرت انسانی سرشت میں ہے اور بنی نوع انسان روز ایک دوسرے کے گناہوں پر چشم پوشی کرتے رہتے ہیں ہاں اس پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ بعض دفعہ مرحمت یعنی مغفرت کرنے سے اور مجرم پر رحم کرنے سے برائی اور بڑھ جاتی ہے تو یاد رہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان عالم الغیب تو ہے ہی نہیں بعض دفعہ اپنے فیصلہ میں غلطی کرتا ہے اور جہاں عقوبت مناسب ہوتی ہے وہاں رحم کر بیٹھتا ہے تو اس کا نتیجہ بھی برا پیدا ہوتا ہے اس صفت رحم پر کچھ اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ یہ تو اس کو بر خلاف فطرت استعمال کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جیسے کہ ایک دوائی جو خواہ کیسی ہی مفید ہو اور کیسی ہی قیمتی اور لاثانی ہو اگر کسی ایسے مریض کو دی جائے کہ جس کے لئے وہ