انوارالعلوم (جلد 1) — Page xxviii
انوار العلوم جلدا ۱۸ تعارف کتب سے آر اغراض کے ضمن میں فرمایا کہ اس میں ایک صفحہ تاریخ اسلام کے لئے وقف رہے گا۔ اس سلسلہ میں آپ نے بانی اسلام آنحضرت ﷺ کی سیرت کے بیان کو مقدم جان کر صحیح بخاری کے حوالے آپ کی سیرت ہر ہفتے بیان کرنی شروع کی ۔ لیکن ۱۹۱۴ء میں خلیفہ المسیح منتخب ہونے کے بعد کچھ عرصہ یہ سلسلہ تعطل کا شکار رہا۔ ۲۲۔ اکتوبر ۱۹۱۴ء سے آپ نے اس سلسلہ کو دوبارہ شروع کیا لیکن کچھ عرصہ جاری رہنے کے بعد خلافت کی دیگر بے پناہ ذمہ داریوں کے سبب آپ مزید نہ لکھ سکے۔ لیکن جو کچھ سیرت النبی کے سلسلہ میں آپ نے تحریر فرمایادہ اپنی نظیر آپ ہے۔ باب اول میں آنحضرت کا حلیہ لباس ، عمر اور بعض دیگر امور کا تذکرہ کیا ہے۔ باب دوم آنحضرت کی بابرکات عادات کے ذکر پر مشتمل ہے۔ باب سوم میں آنحضرت کے بے نظیر اخلاق کا تذکرہ ہے۔ پھر اخلاق باللہ کے عنوان سے تعلق باللہ کے سلسلہ میں آنحضرت کی خشیت الہی ، قیام حدود توکل علی اللہ اور یاد الہی کے ایمان افروز واقعات بیان کئے ہیں۔ خدا سے تعلق کے بعد آپ نے دوسرے حصہ یعنی حقوق العباد کے متعلق سیرت النبی کا بیان طہارت النفس کے عنوان سے شروع کیا اور آپ کی سیرت کے چند نمایاں اور درخشندہ پہلوؤں کا تذکرہ فرمایا جس میں بدی سے نفرت و قار، جرأت و بہادری سادگی اور صحابہ سے محبت و شفقت ہمیشہ خیر کا اختیار تحمل استقلال ، احسان کی قدر ، لڑائی سے نفرت، تکبر سے اجتناب انکسار اور سخت کلامی سے پر ہیز جیسے انسانی اعمال پر اثر ڈالنے والے آ۔ پر اثر ڈالنے والے آپ کے غیر معمولی اخلا ولی اخلاق بڑے دلنشیں اور واقعاتی رنگ میں یوں بیان فرمائے کہ گویا ہم آپ کے قلم سے نہیں بلکہ منہ سے اس طیب اور پاکیزہ سیرت کے تذکرے سن رہے ہیں۔ (۱۹) اسلامی نماز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے مارچ ۱۹۱۴ء میں یورپ کے سعید فطرت لوگوں کے لئے "اسلامی نماز" کے عنوان سے ایک مضمون ریویو آف ریلیجز میں تحریر فرمایا ۔ جو بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع ہوا۔ اس میں آپ نے عبادت کی اغراض بیان کیں کہ عبادت کی بنیادی غرض تو اپنے جذبات شکر کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ایک اور غرض گناہوں اور بدیوں سے پاکیزگی اختیار کرنا یعنی