انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 250

رہے۔مگر آج سے دو ہزار سال پہلے اگر انسان ر تھوں پر سوار ہو تا تھا اور اس کے بعد جنڈول اورپینس اور سکھ پال وغیرہ سواریاں نکل آئیں پھر اور ترقی کی تو گے گاڑیاں ایجار ہو گئیں اور پھران میں مختلف تم کی کتر بیونت ہوتی رہی اور وہاں سے انسان نے ترقی کی توریل ایجاد کی اور پہلےاگر دس میل فی گھنٹہ رفتار تھی تو پھر پندرہ میل اور رفتہ رفتہ ایک سودس میل تک لے آیا اور سٹیم سے ترقی کی تو برقی طاقت سے کام لینے لگا اور اس سے بھی بڑھاتو ہوائی جہاز ایجاد کئے۔مگر مکھی نےشہد کے بنانے کے طریقہ میں اور ریشم کے کیڑے نے کپڑے کے بنانے میں اس عرصہ میں نئی نئی ایجاد یں نہیں کیں جس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں یہ طاقت ہی نہیں رکھی گئی۔اب اگر ہم کسی جانورکو فلسفہ کے مسائل سمجھانے بیٹھیں تو کیا سمجھا سکتے ہیں؟ کبھی نہیں کیونکہ اس میں وہ مادہ ہی نہیں۔پس جب تجربہ ہم کو بتاتا ہے کہ جو طاقت کسی چیز میں نہ ہو وہ اس سے کام نہیں لے سکتی تو پھرکس طرح ممکن ہے کہ اگر انسان میں ان صفات کا پر تو نہ ڈالا گیا ہو جو خدا تعالیٰ میں ہیں تو پھر بھی وہ اس کی صفات کو سمجھ سکے۔خدا تعالیٰ کو ملنے کا ایک ہی طریق ہے اور وہ اس کی صفات کا کامل علم ہےپس جب انسان ان صفات کا علم ہی نہیں حاصل کر سکے گا تو وہ ان کا عرفان کیونکر حاصل کرے گا۔پس الہٰی گیان یا عرفان کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان میں الہٰی صفات کا جلوہ موجو د ہو اوریہی مطلب ہے ان آیات و احادیث کا جو میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ انسان میں الہٰی صفات کاپر تو ایک حد تک ڈالا گیا ہے۔اور اس کی فطرت اس طرح نیک بنائی گئی ہے کہ اگر وہ اس سے کام لے تووہ ضرور خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھ سکتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ الہٰی صفات کے سمجھنے کا ایک ہی طریق ہے کہ انسان فطرت انسانی کو دیکھے اور پھر ہر ایک مذہب کی بتائی ہوئی صفات کو اس کسوٹی پر پرکھے۔تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ کونسامذ ہب سچا ہے اور فطرت کے مطابق ہے اور کونسا جھوٹا اور فطرت کے بر خلاف۔پس اب میں اسلام کا دعویٰ مشاہدات کے دلائل سے ثابت کر آیا ہوں کہ انسان میں الہٰی صفات کا ضرور ایک حد تک جلوہ ہو نا چاہئے تاکہ انسان الہٰی صفات کو سمجھنے کے لائق ہو اور اگراس میں وہ صفات نہ رکھے جاتے تو وہ ایک جانور کی طرح جو فلسفہ کے مسائل ہزار برس پڑھانے پربھی نہیں پڑھ سکتا۔الہٰی صفات کے سمجھنے کے نا قابل ہو تا۔پس اب مذاہب کے دعاوی کے پرکھنے کے لئے ہمارے لئے ایک بہت آسان راہ نکل آئی کہ اگر کسی مذہب کا دعویٰ عقل انسانی اور فطرت کے بر خلاف ہو اور متعارض ہو تو وہ غلط اور بے بنیاد ہے۔کیونکہ جب ہماری فطرتیں الہٰی صفات کا جلوہ گاہ ہیں تو جو بات ہماری فطرتوں کے بر خلاف اور