انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 249

اور بھی تشریح کی ہے اور فرمایا ہے کہ جب مومن اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے بالکل سپرد کر دیتا ہے۔تواس وقت خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ ہو جا تا ہے جن سے وہ پکڑ تا ہے اور زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے۔اور پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے۔اس حدیث کا بھی یہی مطلب ہے کہ انسان ایسااپنی فطرت پر پکا ہو جاتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی بھی جائز نہیں رکھتا۔اس لئے چونکہ انسانی فطرت میں الہٰی صفات رکھی گئی ہیں اور اس کی کل حرکات فطرت کے مطابق ہو جاتی ہیں تو اس وقت گویا اس کا ہر ایک فعل خد اکاہی فعل ہو جا تا ہےاور ایسا انسان خدا تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔پس اسلام نے مذہب کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ فطرت کے مطابق ہو اس کے بر خلاف نہ ہواور خدا تعالیٰ کی طرف ایسی صفات منسوب نہ کر تا ہو جو خلاف فطرت ہوں بلکہ ایسی صفات کومنسوب کر تا ہو جو عین فطرت کے مطابق ہوں۔اور مشاہدہ بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان میں ایسی صفات رکھی ہیں کہ جن سے انسان فیصلہ کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کونسی صفت منسوب کر سکتے ہیں اور کونسی نہیں۔اس لئے مجھ کو کوئی بڑے دلائل دینے کی بھی ضرورت نہیں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ اگرانسانی فطرت میں ایسی طاقت نہ ہوتی تو وہ خدا کی صفات کو سمجھ ہی نہ سکتا کیونکہ جو طاقت ایک چیزمیں ہوتی ہی نہیں تو وہ اس قسم کا کام نہیں دے سکتی۔مثلا یہ کہ طوطے میں بولنے کی طاقت ہے جب ہم اس کو بولنا سکھاتے ہیں تو وہ بولنے لگتا ہے لیکن چونکہ بیل میں بولنے کی طاقت نہیں ہم لاکھ کوشش کریں وہ کبھی نہیں بول سکے گا کیونکہ اس میں وہ مادہ ہی نہیں رکھا گیا یہ کہ اونٹ کو پر نہیں دیئے گئے اور اس میں اڑنے کی طاقت نہیں رکھی گئی۔اب لاکھ بھی ہم اس سے کہیں کہ تواڑاور دہ پرندوں کو اڑتا ہوا دیکھے لیکن نہ تو اس کی توجہ ہی اس طرف جاسکتی ہے اور نہ وہ اڑہی سکتا ہے اس طرح کل جانور جن کو انسان کی طرح ترقی کی طاقت نہیں دی گئی اگر یہ ان کو سمجھانا چاہیں کہ داناکےلئے ہر وقت ترقی کی فکر میں لگا رہنا ضروری ہوتا ہے اور ایجادوں سے اپنی قوم کو فائدہ پہنچانا اس کافرض ہوتا ہے تو وہ اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتے کیونکہ ان میں یہ طاقت ہی نہیں رکھی گئی۔انسان کو دیکھو کہ کہاں سے کہاں ترقی کر کے آگیا ہے مگر جانور جس طرح آج سے دو ہزار یا تین ہزاریا چار ہزار سال پہلے تھا۔اسی طرح آج کل بھی ہے لیکن جس طرح مکھی آج سے ہزاروں سال پہلےشہد تیار کیا کرتی تھی۔اسی طرح اب بھی کرتی ہے، یہ نہیں کہ انسان کی طرح نئی نئی ایجادیں کرتی