انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 248

۔کوئی تبدیلی نہیں چاہئے۔اس لئے ایسا نہ ہو کہ تم خلاف فطرت ایسی صفات تجویز کرو۔جو میری خلق کے خلاف ہیں۔اور میں نے ان کو پید اکیا بلکہ ہمیشہ عقل و فطرت سے کام لیا کرو اور ان دونوں کو اپنا رہنما بناؤ - اور جب تک تم خود ان میں تبدیلی نہ کرو گے اس وقت تک تم راہ راست پر رہو گے۔اس جگہ پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کا یہ منشاء ہرگز نہیں کہ عقل سے بالا ہے کوئی علوم نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ فطرت و عقل کے مطابق کل علوم ہونے چاہئیں اس کے خلاف نہ ہوں مثلا ًکوئی شخص ہم کو آکربتائے کہ زید لا ہو ر گیا ہے تو یہ بات ہماری عقل سے بالا ہے خلاف نہیں کیونکہ ہم کوسماع سے معلوم ہوئی ہے خود عقل بغیر کسی کی اطلاع کے اس بات کو دریافت نہ کر سکتی تھی۔مگر جب معتبر خبرہم کوئی تو ہماری عقل نے کوئی وجہ اس کے رد کرنے کی نہیں پائی۔پس جہاں جہاں میں عقل وفطرت کو انسان کا رہنما بتلاؤں گا میرا یہی مطلب ہوگا کہ جن باتوں کے وہ بر خلاف نہ ہوں ان کو قبول کرو خواووہ کسی ذریعہ سے پائہ ثبوت کو پہنچی ہوں۔پس خدا تعالیٰ اس آیت میں ہم کو بتاتا ہے کہ فطرت انسانی تو ہماری ہی پیدا کی ہوئی ہے۔اوراس میں ہم نے اپنے صفات کا پرتو ڈالا ہے پس اس میں تبدیلی مت کرو۔اور اس کو اپنا رہنما بناؤ - اورجب تک تم اس اصول پر چلتے رہو گے اور اس راہ کو نہ چھوڑو گے تو تم سیدھی راہ پر ہو گئے اورہماری صفات کے سمجھنے میں دھوکہ نہ کھاؤ گے۔چنانچہ فرماتا ہے ذالك الدین القیم یعنی جو دین کہ اس طرح فطرت کے مطابق ہم کو چلاتا ہے اور وہ اصول ہم کو بتاتا ہے جو فطرت کے بر خلاف نہ ہوںوہی سچا ہے اور باقی سب مذاہب جھوٹے ہیں اور غلطی پر ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی حقیقت کو ہی نہیں سمجھا۔اور وہ سیدھے راستہ سے دور جا پڑے ہیں اور کیونکہ ان کی بات بے ثبوت ہے اوران کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ جس سے وہ اپنے دعوے کو ثابت کر سکیں اور یہ ایک ایسا اصول ہےکہ جس کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔پس قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک حد تک انسان کو اپنے صفات کا مظہربتا تا ہے اور جو طاقتیں کہ خدا تعالیٰ میں ہیں ایک حد تک انسان پر اس کا پر تو ڈالا ہے۔چنانچہ اس کی تائید میں رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث بھی ہے جس میں آپﷺ فرماتے ہیں کہ تخلقوا بأخلاق اللہ یعنی اے لوگو !تم اللہ تعالیٰ کی صفات کا اپنے آپ کو مظہر بناؤ او ر و ہ صفات حسنہ جوخدا تعالیٰ نے تم میں ودیعت کی ہیں ان کو ترک مت کرو۔اور ان سے غافل مت ہو بلکہ ان میں ترقی دو۔اور اپنے آپ کو کامل مظہر بناؤ۔چنانچہ ایک اور حدیث میں رسول اللہ اﷺنے اس کی