انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 247

انوار العلوم جلد 1 ۲۴۷ اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفات سے آگاہ کرنے کے لئے قرآن شریف میں مختلف جگہ پر صفات الہیہ کا ذکر کیا گیا ہے تا ایسا نہ ہو کہ اس مذہب کے پیروں کو کچھ مدت کے بعد خدا تعالیٰ کی صفات میں دھو کہ لگ جائے اور وہ سیدھے راستہ سے بھٹک جائیں اور نیکی کا طریق ان سے چھوٹ جائے اور ضلالت اور گمراہی کی وجہ سے یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف وہ صفات منسوب کریں کہ جو در حقیقت اس میں نہیں ہیں اور ان کا ہونا اس کے لئے عیب کا موجب ہو اور ایسی صفات جن کے نہ پائے جانے سے اس میں کمی لازم آتی ہو اور نقص وارد ہو تا ہو ان صفات کو اس سے جدا کر دیں اور اس کے نتیجہ میں اس حقیقی خدا کا دامن چھوڑ کر مصنوعی خداؤں کے پیچھے لگ جائیں۔ پس قرآن شریف ہم کو بتاتا ہے کہ وہ خدا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ان میں طرح طرح کے جانور پیدا کئے اور انسان کو بنایا ۔ اور بادلوں سے پانی اتارا۔ اور آگ اور ہوا سے انسان کے فوائد کی تکمیل کی وہ خدا بڑا طاقتور خدا ہے اور اس کے تمام فعل بالا رادہ ہوتے ہیں۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جس کام کو وہ کرنا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اور جس کام کو وہ روکنا چاہے اسے کوئی کرنے والا نہیں۔ علاوہ اس کے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے ہم کو یہ بھی بتایا ہے کہ انسان کی خلقت میں ہی نیکی اور تقویٰ رکھا گیا ہے ۔ جس سے وہ نیک بات اور بری بات میں فرق کر سکے ۔ چنانچہ فرماتا ہے فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (الروم : ۳۱) یعنی اللہ کی طرف سے دی ہوئی فطرت وہی ہے جو اس نے اپنے بندروں میں رکھی ہے اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں چاہئے۔ یہ ایک دین ہے جو استوار ہے لیکن اکثر لوگ ناواقف ہوتے ہیں یعنی اللہ کی طرف سے انسان میں ایسی صفات رکھی گئی ہیں کہ جن سے وہ ایک حد تک صفات الہیہ کا مظہر بن سکتا ہے اور ایسی ایسی صفات حسنہ اس میں ودیعت کی گئی ہیں کہ جن کی مدد سے وہ نیک و بد کو پرکھ سکتا ہے اور اس طرح سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کن صفات کو منسوب کرنا جائز اور کن کو منسوب کرنا نا جائز ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ انسان میں بھی ایک حد تک اللہی صفات کا رنگ دیا گیا ہے اور اس لئے جب فطرت کے مطابق انسان اللہی صفات کو پرکھتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں فلاں صفات کا اللہ تعالیٰ سے جدا کرنا اور فلاں فلاں صفات کا اس سے منسوب کرنا برا ہے۔ پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان میں رہی صفات ہیں کہ جو میری طرف سے اسے میری معرفت حاصل کرنے کے لئے دی گئی ہیں اور چونکہ میری خلق میں نجات