انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 246

کے بھیس میں اسے دیکھا۔اور کسی نے اس پاک ہستی کو ورا ،شیر، مگر مچھ کچھ کی شکل میں اعتقاد کیا۔کسی نے یسوع کے رنگ میں رنگین پایا تو کسی نے بدھ کی صورت میں جلو ہ (نعوذ باللہ من کل ذالک) یہودیوں نے اگر موسیٰؑ کی معرفت اس کا دیدار چاہا تو زرتشتیوں نے زرتشت کی وساطت سے اس کی ملاقات کی خواہش کی مگر سچی بات یہی ہے کہ وہ وراء الور یٰ ہستی اس بات کی محتاج نہیں کچھ ،مگر مچھ یا کسی انسان کی صورت اختیار کرے اور یہ بات اس کی صفات کے بھی برخلاف ہے۔اس کا دیدار اس کی صفات کی معرفت سے ہوتا ہے چنانچہ اس سچے مسئلہ کو رسول الله ﷺکی معرفت خدا تعالیٰ نے ہم تک پہنچایا اور فرمایا کہ ليس كمثله شي ا(شوری: ۱۲) کہ اس کی مانند کوئی چیز نہیں کہ جسم کے بھیس میں وہ آ سکے اور دوسرے مقام پر فرمایا کہ لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ٘-وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَۚوَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (الانعام : ۱۰۴ )یعنی یہ مادی آنکھیں اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتیں ہیں وہ ان آنکھوں کی کنہ کو خوب پہنچتا ہے اور وہ بڑا لطیف اور خبیر ہے۔پس ان سب بد عقائد کی جڑ صفات الہیہ سے بے خبری ہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض نادان محبت کی وجہ سے بعض خدانما لوگوں کو خدا ہی سمجھ بیٹھتے ہیں اور بعض مخلوقات الہٰیہ کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔اسی کی طرف قرآن شریف میں خدا تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے کہ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ان اللہ لقوی عزیز (الحج ۷۵ )یعنی لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سے پوری آگاہی حاصل نہیں کی اور نہ اس کی بڑائی کا پورا اندازہ کیا تحقیق اللہ قوی اور غالب ہے۔کیا معنی کہ لوگ جوغفلت میں پڑ گئے ہیں اور ایسے معبودوں کی طرف جھک گئے ہیں جو خود ضعیف ہیں اور کوئی طاقت اور قوت نہیں رکھتے اور نقصوں سے پاک نہیں ہیں بلکہ طرح طرح کے نقائص سے آلودہ ہیں ایسےلوگوں نے صفات الہٰیہ کا پوری طرح سے مطالعہ ہی نہیں کیا۔اور بلا سوچے سمجھے من گھٹرت صفات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی ہیں۔کہ جن کی وجہ سے اصل معبود سے دور جا پڑے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسئلہ نجات میں بھی مختلف اقوام نے دھوکہ کھایا ہے۔اسلام کی تعلیم سے ہم کو معلوم ہو تا ہے کہ وہ پاک ذات جس کی محبت میں لاکھوں نہیں کروڑوں روحیں بے چین رہی ہیں اور ہیں اور رہیں گی تمام نقائص سے پاک ہے اور کسی قسم کی اس میں کمی نہیں ہے بلکہ تمام نیک صفات کی وہ جامع ہے اور بالکل بے عیب ہے اور کوئی اعلی صفت نہیں کہ جس کا ہونا اس ذات کے لئےضرو ری ہو اور وہ اس میں نہ پائی جاتی ہو اور نہ کوئی ایسی صفت ہے کہ جس کے ہونے سے اس میں نقص لازم آتا ہو اور وہ اس میں پائی جاتی ہو۔