انوارالعلوم (جلد 1) — Page 237
انوار العلوم جلد 1 ۲۳۷ باشندوں کے لئے مبعوث ہو کر آیا ہوں۔ اور میرا بھیجنے والا اللہ ہے۔ جو کہ آسمان و زمین کا بادشاہ ہے اور مالک ہے۔ اس لئے میری بات کو ہلکامت خیال کرو بلکہ یاد رکھو کہ اگر تم نے میرا مقابلہ کیا تو لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ - ملک اس کا ہے وہ تم سے فورا چھین لے گا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا جس نے مقابلہ کیا وہ ذلیل ہوا اور علاوہ اور ذلتوں کے ملک بھی خالی کرنا پڑا پھر آپ کے بچے متبعین حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی اور حضرت معاویہ کے زمانوں میں بھی جو کوئی سامنے آیا ذلیل ہوا اور خائب و خاسر ہوا۔ چنانچہ اس وقت تو اور رنگ تھا اب بھی پادری صاحبان نے جس وقت سے اسلام کے برخلاف منہ زوری کرنی شروع کی ہے اس وقت سے یورپ سے پادریوں کی حکومت مٹتی جاتی ہے۔ اور اب صرف چند جگہ ہی رہ گئی ہے۔ ورنہ کل یورپ میں ان کا سکہ چلنا بند ہو گیا ہے ۔ وہ طاقتیں جو کروڑوں روپیہ ان کی مدد کے لئے خرچ کرتی تھیں اب روپیہ دینا تو الگ خود ان سے وصول کرنا چاہتی ہیں۔ انگلستان سے ان کا دخل اٹھ گیا۔ فرانس و بلجیئم سے ان کا دخل اٹھ گیا۔ جرمن سے ان کو جواب ملا۔ ایشیا میں ان کی ذلت ہوئی تو امریکہ نے ان کی اطاعت کا جوا اتار کر پھینک دیا ۔ چنانچہ تاریخ کو اٹھا کر دیکھو کہ جس وقت سے اسلام کے بر خلاف انہوں نے زہر اگلنا شروع کیا ہے اور قرآن شریف کی ہتک پر کمر باندھی ہے تبھی سے ان پر تباہی آنی شروع ہوتی ہے۔ اور کہاں تو بادشاہ تک پادریوں سے ڈرتے تھے۔ اور کہاں مذہب کے برخلاف فیصلے ہو رہے ہیں اور اگر پادری صاحبان کچھ چوں چرا کریں تو گورنمنٹ تو الگ عوام تک بھی گر جا پھونک دیتے ہیں۔ لمبی تحقیقات تو تاریخوں سے ہو سکتی ہے۔ میں ایک واقعہ یہاں لکھ دیتا ہوں جس سے میری تصدیق ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر ہے ۔ ایف آرنلڈ مسلم مشن سوسائٹی کے آنریری سیکرٹری کی کتاب اسلام اور عیسائیت سے جو کہ ۱۸۷۴ء میں چھپی ہے۔ ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے اول مسلمانوں کے بر خلاف اگر کوئی باقاعدہ سو سائٹی تیار ہوئی ہے۔ تو وہ ۱۸۲۲ء میں بیل کے مقام پر ہوتی ہے۔ (جو کہ غالبا سو شٹر رلینڈ میں ہے) چنانچہ اس سوسائٹی نے ایک ہزار سے زائد مشنری ادھر ادھر بھیجے تھے ۔ مگر یہ سوسائٹی بہت جلد ۱۸۳۳ء میں گورنمنٹ کے حکم سے ملک بدر کی گئی۔ چنانچہ ڈاکٹر ننڈر جو میزان الحق کا مصنف ہے۔ وہ بھی اس گروہ کے ساتھ یورپ سے بھیجا گیا تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے فورا ہی اس سوسائٹی کو مفید قرار دلوا کر ذلت کے ساتھ ملک بدر کرا دیا ۔ مگر چونکہ پادری صاحبان نے نصیحت حاصل نہیں کی اس لئے آج ہم دیکھتے ہیں تو یورپ میں کہیں۔ یو نیٹرین فرقہ کا زور ہے ۔ جو یسوع کی امنیت پر سو سو قہقہہ لگاتا نجات