انوارالعلوم (جلد 1) — Page 233
بلکہ وصیت کو یوں خاک میں ملا دیا۔اور بت پرست قوموں کے سامنے مسیحیت کو پیش کیا۔وہ لوگ جن کی گھٹی میں ہی بت پرستی پڑی ہوئی تھی وہ کب اس مذہب میں داخل ہو کر اسے ترک کر سکتےتھے۔اگر پہلے محبت اور غضب اوروقت اور قسمت کے بت پجتے تھے۔تو اب انہوں نے یسوع اورمریم کے بتوں کے آگے سر جھکادینے اور اسی طرح وہ تعلیم جو توحید سکھاتی تھی سب سے زیادہ بت پرستی کی تلقین کرنے والی تعلیم ہو گئی اور وہ یسوع جس نے کہ قوم کی خاطر بڑے بڑے دکھ اٹھائےتھے۔اس کو انہوں نے بڑی بے دردی کے ساتھ ملعون قرار دیا (نعو؎ذ باللہ ) اور اسی طرح پہلےنوشتوں کا کام پورا ہوا ’’کہ اپنے موتی سؤروں کے آگے نہ ڈالو کہ وہ انہیں پامال کریں۔اور پھر کرمیں پھاڑ یں ‘‘۔یسوع کے احسانات فراموش کر دیئے گئے۔اس کی کل نیکیاں بھلا دی گئیں۔اس کی کل مہربانیاں نظرانداز کر دی گئیں۔اور وہ قوم کا مسلح بغیر کسی جرم کے ملعون قرار دیا گیا اور اس کے پیروان نے اس کی تعلیم کو غیر قوموں کے سامنے پیش کر کے اسے پھڑوایا اور گالیاں دلوایں۔سچ ہے کہ نادان دوست سے دانا دشمن اچھا ہوتا ہے۔مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔یسوع کے اپنے ہی شاگردوں نے سادگی کی وجہ سے بت پرستوں کے آگے موتی ڈال دیئے جنہوں نے ان کو روندا اورخود ان کے استاد کو پھاڑا۔کیا اس سے زیادہ کوئی حملہ ہو سکتا ہے کہ ایک فدائے قوم اور نیک آدمی کو من مانے عیش اڑانے کے لئے ملعون قرار دیا گو پراٹسٹنٹ فرقہ نے کچھ اصلاح کی ،گمر کس طرح ممکن تھا کہ نو شتوں کا لکھا ٹل جائے۔اب میں اس مسئلہ کو لمبا کرنا نہیں چاہتا میں انجیل سے اچھی طرح ثابت کر آیا ہوں کہ مسیحی تعلیم کا غیر قوموں میں پھیلانا نہ صرف ممنوع ہے بلکہ خطرناک گناہ ہے۔ہیں جبکہ انجیلی نجات سوائےیہودیوں کے اور لوگوں کے لئے ہے ہی نہیں تو مسیحی بننا بالکل لغو اور بیہودہ فعل ہے۔اور ان کانجات کے مسئلہ پر لوگوں سے بحث کر ناہی فضول۔آرین تعلیم بھی عام نہیںاس کے بعد میں آرین تعلیم کو لیتا ہوں مگر اسے میں زیادہ لمبانہیں کرنا جاتا اور اور اگرکروں تو بھی بڑی مشکلات ہیں کیونکہ یہ لوگ تاریخ سے نابلد رہے ہیں۔ان کی کوئی بات سچی ملتی ہی نہیں۔جو مرضی آئے یہ کہہ دیں و ہ سب سچ۔مگر غیرمذاہب والے اگر ان کی پچھلی کتابوں یا قدیم نشانات سے کوئی واقعہ نکال کر ثابت کردیں تووہ سب بالکل غلط اور نادرست ناقابل اعتبار ہوتا ہے۔وید کا کوئی ترجمہ صحیح نہیں اور نہ ہو سکتا ہے۔پنڈت دیانند نے جو کچھ لکھا اس میں دشمنوں کی دست برو ہمیشہ ہو تی رہی۔تاریخ دانی کا یہ حال ہے