انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 232

انوار العلوم جلد 1 ۲۳۲ نجات سخت ممنوع تھا۔ پس خود حواریوں کے اقوال اور افعال سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں میں غیر قوموں میں تبلیغ کرنا منع تھا۔ اور چونکہ خود یسوع نے کہا ہے کہ میں توریت اور دوسرے انبیاء کے احکام کا ایک شوشہ تک نہیں مٹاؤں گا۔ بلکہ وہ ابد تک قائم رہیں گے تو پھر کسی حواری کا یا ان کی کونسل کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس قانون کو بدل سکیں خواہ کسی خواب یا الہام کی ہی بناء پر ہو کیونکہ جس کی نسبت خود خدا کا بیٹا (نعوذ باللہ ) کہتا ہے کہ وہ قانون کو ابد تک نہ بدلیں گے ان کو بدلنا کسی پطرس یا شمعون کے رویا یا الہام کی بناء پر کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔ ورنہ دوہی صورتیں ہیں یا تو یہ مان لیا جائے کہ یسوع کا علم ناقص تھا اور یا یہ کہ مذکورہ بالا کلمات انجیل میں پیچھے سے مل گئے ہیں ان دونوں حالتوں میں انجیل کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ پنجم ایک اور دلیل کا یہاں لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ یسوع ایک موقعہ پر حواریوں کو فرماتا ہے کہ ” وہ چیز جو پاک ہے۔ کتوں کو مت دو اور اپنے موتی سوروں کے آگے نہ پھینکو کہ دے انہیں پامال کریں۔ اور پھر کر تمہیں پھاڑیں " (متی باب کے آیت (۶) اس آیت میں یسوع نے کیسے پر زور اور جوش دلانے والے الفاظ میں حواریوں سے التجا اور استدعا کی ہے کہ دیکھو اپنے جوشوں کو دباؤ اور نرمی سے کام لو میں جو تم کو تعلیم سکھاتا ہوں وہ موتیوں کی طرح ہے۔ اسے ضائع مت کرو۔ اسے غیر قوموں کے سامنے پیش مت کرو۔ کیونکہ جیسے موتیوں کی قدر کہتے اور منور نہیں کر سکتے۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اعلیٰ باتوں کی قدر پہچاننے سے عاری ہیں۔ اور اگر تم ان کے سامنے یہ تعلیم پیش کرو گے ۔ تو جیسے سٹور موتیوں کو پاؤں میں روند ڈالتے ہیں۔ اسی طرح سے یہ لوگ اس تعلیم کو تباہ کر دیں گے۔ اور اس کی خوبی کو خاک میں ملا دیں گے۔ اور اس میں اپنی طرف سے بہت سی باتیں ملا دیں گے۔ یہاں تک کہ وہ موتی جو تم ان کے سامنے پیش کرو گے ۔ وہ ان مسلے ہوئے موتیوں کی طرح ہو جائیں گے جو زمین پر روندے گئے ہوں اور ان میں اور مٹی میں کچھ فرق نہ ہو سکے گا۔ اور نہ صرف وہ اس تعلیم کو ہی خراب کر دیں گے۔ بلکہ تم پر اور مجھ پر ایسے ایسے الزام باندھیں گے کہ پھر بچنے کی کوئی راہ نہ ملے گی۔ پس کیسی بچی یہ تعلیم تھی جو یسوع نے دی اور کیا ہی پاک وہ نصیحت تھی جو اس نے کی مگر افسوس اس دن پر کہ جب حواریوں نے یا (میرے خیال کے مطابق) ان کے بعد اور لوگوں نے یسوع کے ان درد بھرے کلمات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے یونانیوں اور رومیوں پر یہ مذہب پیش کیا۔ اور ماتم اس قوم کے لئے جس نے اپنے محسن اپنے نجات دہندہ اپنے مہربان اپنے استاد کے ارشاد