انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 227

طریق سے اپنے مذہب میں شامل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ایک بات اس جگہ پر اور قابل غور ہے کہ اگر مسیح صاحبان فرما دیں کہ یہاں تو صاف لفظ آیا ہے کہ پہلے اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جاؤ۔اس میں سے ہمیشہ کی ممانعت کہاں سےنکال لی۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے یہ ضرور آتا ہے کہ جب تک یہودیوں کی کھوئی ہوئی بھیڑوں میں منادی نہ ہو جائے تب تک غیر قوموں میں منادی نہ کی جائے۔اب اس کی دو ہی صورتیں ہیں۔یا تواس کے یہ معنی ہیں کہ ان کو جب تک اپنے اندر شامل نہ کر لو تب تک دو سرےلوگوں کی طرف رخ نہ کرو۔اور یا یہ معنی ہیں کہ انہیں ایک دفعہ خبردید و کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک ہے۔اور پھر تمہارا کچھ فرض نہیں۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں معنی لے کر بھی مسیحیوں پرسے الزام دور نہیں ہو تا۔کیونکہ اگر یہ معنی لئے جائیں کہ جب تک یہودی مان نہ لیں اس وقت تک غیر قوموں میں تبلیغ نہ کی جائے تب بھی مسیحیوں پر اعتراض ہے کہ اب تک یہودی دنیامیں باقی ہیں۔جب تک وہ کل کے کل تمہاری منادی میں نہ آ جائیں تب تک غیر قوموں میں منادی کرناسراسرنا جائز ہے۔اور یسوع کے حکم کے ماتحت جب تک ایک یہودی بھی یہ دنیاپر موجو ہے۔تب تک مسیح کسی اور کو اپنے مذہب کی تلقین نہیں کر سکتے۔پس ان کا ہم لوگوں کو ابھی انجیل سنانا قبل از وقت ہے۔پہلے اپنے خدا کے اکلوتے بیٹے کے علم کے ماتحت کل یہودیوں کو مسیح بنالیں تو چھر ہماری طرف رخ کریں۔اور اگر اس کے یہ معنی لئے جائیں کہ نہیں صرف ایک دفعہ منادی کر دینی کافی تھی۔آگےکوئی مانے یا نہ مانے۔اس سے کچھ غرض نہیں۔یہ اس کی اپنی دیانت اور امانت پر منحصر ہے۔تو پھر بھی یہ اعترا ض پڑ تا ہے کہ پیسوع کی کھوئی ہوئی بھی ہیں تو وہ تھیں کہ جن کو بخت نصرير و شلم کے علاقہ سے لے گیا تھا۔چنانچہ بائبل پڑھنے والوں سے مخفی نہیں ہے کہ اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔اور وہ تمام ملک شام اور اس کے آس پاس پھیلے ہوئے تھے۔چنانچہ جب ان میں شرارتیں حد سے زیادہ بڑھ گئیں۔اور اللہ تعالیٰ کے حدود کو انہوں نے تو ڑ دیا۔اور دنیا میں بجائے امن قائم کرنے کے فسادمچانے لگے۔تو بابل کا بادشاہ بخت نصران پر حملہ آور ہوا۔اور خدا نے اس کے ہاتھوں ان کو سزادی چنانچہ بخت نصران کے دس قبیلوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے آیا۔اور ان کو افغانستان وغیرہ ممالک میں پھیلا دیا (چنانچہ افغان اور کشمیری انہیں کی نسلوں میں سے ہیں) اور یروشلم اور اس کے گردو نواح میں صرف دو قبیلے رہ گئے۔سورہ دس قبیلے جو بخت نصر کی قید میں پڑ کر اپنے وطن سے دور جا پڑے۔وہ بنی